سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 93

سيرة النبي عالم 93 جلد 2 جارہی ہو وہ چلتی جائے اور ایک شخص پیچھے ہاتھ رکھ دے اور کہے کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔لیکن آنحضرت ﷺ نے جدھر گاڑی چل رہی تھی ادھر سے اس کا رُخ پلٹ کر ) دوسری طرف کو پھیر دیا۔زرتشتی دو خداؤں کے قائل تھے۔آپ نے ان سے یہ عقیدہ چھڑوایا۔عیسائی حضرت مسیح ناصری کو اپنے گناہوں کا کفارہ بنا کر اپنی نجات ان کی صلیبی موت میں جانتے تھے اور اسی پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے آپ نے اس کے خلاف آواز بلند کی جو ان کے وہمی باغات کو جلا کر خاکستر کر گئی۔صلى الله قوم نے آنحضرت ﷺ سے کیا سلوک کیا آپ کی قوم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھی بلکہ آپ کے خلاف کھڑی ہوگئی اور تیرہ سال تک آپ کو بے شمار تکالیف دیتی رہی۔پھر وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر نئے سے نئے مظالم توڑے گئے اور عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر چیرا گیا۔گرم ریت پر لٹائے گئے اور ان کو مارا گیا اور اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے اور جب ان کو ہوش آتی بتوں کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا مگر پھر بھی جب وہ خدا کا ہی نام لیتے تو ان کو اور عذاب دیتے۔اس فتنہ کا حال حضرت علیؓ کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نے خدا کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا۔لوگوں نے آنحضرت ﷺ تک اس کو پہنچنے نہ دیا اور واپس چلا گیا۔پھر وہ خود آئے مگر کسی سے پوچھتے بھی نہ تھے کہ کوئی دھوکا نہ دے دے۔حضرت علیؓ سے ملاقات ہوئی۔بڑی ردوکت کے بعد انہوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا کہ میں آنحضرت ﷺ کو دیکھنے آیا ہوں۔حضرت علیؓ نے ان کو کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔جب کوئی غیر شخص نظر آئے گا تو میں جھٹ ایک طرف ہو کر بیٹھ جایا کروں گا اور تم آگے نکل جایا کرو۔اسی طرح حضرت ابوذر حضرت علیؓ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے حضور پہنچے اور ایمان لے آئے۔مگر ان پر یہ اثر ہوا کہ ایمان لا کر خاموش نہ رہ سکے۔مکان