سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 92

سيرة النبي عمال 92 جلد 2 ساتھ لوگ چل پڑے۔مثلاً آج ہمارے ہندوستان میں مسٹر گاندھی ہی ہیں ان کی جے کے نعرے بھی آج ہندوستان میں لگائے جاتے ہیں۔ممکن ہے کہ کوئی کہہ دے کہ الله آنحضرت مے کے ساتھ اگر دنیا ہوگئی تو کیا ہوا مسٹر گاندھی کے ساتھ بھی تو لوگ ہو ہی گئے ہیں۔اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ اور مسٹر گاندھی میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ آنحضرت معہ عرب سے وہ بات منوا رہے تھے جو عرب ماننے کے لئے تیار نہ تھا مگر مسٹر گاندھی وہ بات کہتے ہیں جس کا مطالبہ خود ہندوستان کر رہا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی زمیندار کے پیٹ میں درد ہونے لگا۔کسی نے کچھ علاج بتلایا کسی نے کچھ۔ایک شخص نے جو زمینداری کا ایک اوزار لئے کھڑا تھا کہا کہ اس کو گرو گھول کر پلا دو۔مریض نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ ہائے اس کی بات کوئی نہیں سنتا۔تو وہ بات جو مسٹر گاندھی کہہ رہے ہیں لوگوں کے مطلب کی اور ان کی منشاء کے مطابق ہے اس لئے اس کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔ایک اور مثال ہے جو اگر چہ فرضی ہے مگر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ایک بزرگ نے لکھا ہے ایک اونٹ کہیں جارہا تھا آگے سے چوہا ملا اس نے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور جدھر اونٹ جارہا تھا ادھر ہی چل پڑا۔تھوڑی دور جا کر چوہے نے خیال کیا کہ میں ہی اس کو چلا رہا ہوں۔آخر ایک دریا پر پہنچے اور وہاں اونٹ رک گیا۔چوہے نے کہا چل ! اس نے کہا نہیں چلتا۔جب تک میرا دل چاہا میں چلا اب دل نہیں چاہتا میں نہیں چلوں گا۔تو چونکہ ان لیڈروں کی زبان سے وہی نکل رہا ہے جو لوگ چاہتے ہیں اس لئے اگر لوگ ان کے پیچھے چل رہے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے مکہ والوں کے چڑھاووں کی حفاظت کی فکر نہیں کی ، ان کے بتوں کی حفاظت نہیں کی جن پر چڑھاوے چڑھتے تھے اور جن سے ان کی گزر اوقات ہوتی تھی بلکہ آپ نے ان کے اس چڑھادوں کے رزق کو بند کر دیا اور کہہ دیا کہ ان خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کو مانو۔پس مسٹر گاندھی وغیرہ لیڈروں کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے کوئی گاڑی یا موٹر جدھر