سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 87

سيرة النبي عمال 87 جلد 2 ایک دوسرے پر درود بھیجو لیکن یہ نہیں کہا گیا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلی بات مستقل حکم کا رنگ رکھتی تھی یعنی چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو اور دوسری آیت میں اس فعل کی جزا بتائی کہ چونکہ تم نے اس حکم کی تعمیل کی اس لئے اس کی جزا میں خدا اور رسول ان پر بھیجنے لگ گئے۔گویا وہاں تو رسول کریم ﷺ کے درجہ کی وجہ سے درود کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں اس کی جزا کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ جزا کے بدلے میں پھر اور حکم نہیں دیا جاتا اس لئے آگے یہ نہیں فرمایا کہ تم دوسرے بندوں پر بھی درود بھیجو مثلاً جب ہم روپیہ دے کر کپڑا خریدیں تو کپڑا دینے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جو کپڑا دیا ہے اس کا تم نے کوئی بدلہ نہیں دیا۔تو پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔مگر مومنوں کے لئے یہی فرمایا کہ ہم اور ملائکہ ان پر درود بھیجتے ہیں اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی اپنے بھائیوں پر درود بھیجو۔غرض اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ رسول کریم ﷺ پر درود بھیجنے سے ملائکہ کے ساتھ تعلق ہو جاتا ہے۔پس جو لوگ رسول کریم ﷺ پر درود بھیجیں گے ان کی ملائکہ سے ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح ان سے تعلق ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ صلحاء نے رسول کریم ﷺ پر درود بھیجے کو بڑا اعلی عمل قرار دیا ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دعا جس میں خدا کی حمد اور مجھ پر درود نہ ہو وہ دعا قبول نہیں ہوگی 3 اس کا یہی مطلب ہے کہ جس دعا میں خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم ﷺ پر درود ہوگا وہ زیادہ ملائکۃ اللہ صفحہ 104 ، 105 مطبوعہ قادیان بار دوم ) قبول ہوگی۔“ 1: الاحزاب : 57 2 الاحزاب : 42 تا 44 3 ترمذی ابواب الدعوات باب فى ايجاب الدعاء صفحه 794،793 حدیث نمبر 3476، 3477 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى