سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 69
سيرة النبي علي 69 جلد 1 کر کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔کیا کوئی ایک نظیر بھی دنیا میں ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ایسی آزاد اور خونخوار قوم کو کسی نے ایسا مطبع کیا ہو اور وہ اپنی آزادی چھوڑ کر غلامی پر آمادہ ہو گئی ہو اور ہر قسم کی فرمانبرداری کے نمونے اس نے دکھائے ہوں۔اگر ایسی کوئی قوم پائی جاتی ہو تو اس کا نشان و پتہ ہمیں بتاؤ تا ہم بھی تو اس کے حالات سے واقف ہوں۔لیکن میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی مصلح ایسے وسیع اخلاق لے کر دنیا میں نہیں آیا جیسا کہ ہمارا آقاع۔اور اس لیے کسی مصلح صلى الله کی جماعت نے ایسی فدائیت نہیں دکھائی جیسے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے۔چنانچہ بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے واقعات میں مسور بن مخرمہ کی روایت ہے کہ جب آپ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے تھے تو صحابہؓ اچک کر آپ کا تھوک اپنے منہ اور ہاتھوں پرمل لیتے تھے اور جب آپ وضو کر نے لگتے تو وضو کے بچے ہوئے پانی کے لینے کے لیے اس قدر لڑتے کہ گویا ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے۔اور جب آپ کوئی حکم دیتے تھے تو ایک دوسرے کے آگے بڑھ کر اس کی تعمیل کرتے اور جب آپ بولنے لگتے تو سب اپنی آوازوں کو نیچا کر لیتے۔اور صحابہ کے اس اخلاص اور محبت کا ان ایلچیوں پر جو گفتگو کے لیے آئے تھے ایسا اثر پڑا کہ انہوں نے اپنی قوم کو واپس جا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں 12۔اسی طرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنگ احد پر جانے کے متعلق جب آپ نے انصار سے سوال کیا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو جواب دیا یا رسول اللہ ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم حضرت موسی کے ساتھیوں کی طرح کہہ دیں گے کہ فَاذْهَبُ انْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 13 یعنی تو اور تیرا رب جاؤ اور دونوں دشمنوں سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ خدا کی قسم ! ہم تیرے آگے بھی اور پیچھے بھی اور دائیں بھی اور بائیں بھی تیرے دشمنوں سے مقابلہ کریں گے۔اے چشم بصیرت۔