سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 68

سيرة النبي علي 68 جلد 1 اے عمرو! ہمارے نیزوں نے انکار کیا ہے۔تجھ سے پہلے بھی کہ دشمنوں کے لیے نرم ہو جائیں۔ان اشعار کو دیکھو کس جوش کے ساتھ وہ بادشاہ کو ڈانٹتا ہے اور اپنی آزادی میں فرق آتا نہیں دیکھ سکتا۔جو حال بنی تغلب کا ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے وہی حال قریباً قریباً سب عرب کا تھا اور خصوصاً قریشِ مکہ تو کسی کی ماتحتی کو ایک دم کے لیے بھی گوارا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں کعبہ کی ولایت کی وجہ سے جو حکومت گل قبائل عرب پر تھی اس کی وجہ سے ان کے مزاج دوسرے عربوں کی نسبت زیادہ آزاد تھے بلکہ وہ ایک حد تک خود حکومت کرنے کے عادی تھے۔اس لیے ان کا کسی شخص کی حکومت کا اقرار کر لینا تو بالکل امر محال تھا۔یہ وہ قوم تھی کہ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا اور پھر ایسے رنگ میں کہ آپ نے ان کی ایک نہیں، دو نہیں تمام رسوم و عادات بلکہ تمام اعتقادات کا قلع قمع کرنا شروع کیا جس کے بدلہ میں ان کے دلوں میں آپ کی - نسبت جو کچھ بغض و کینہ ہو گا وہ آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔مگر آپ کے اخلاق کو دیکھو کہ ایسی آزاد قوم باوجود ہزاروں کینوں اور بغضوں کے جب آپ کے ساتھ ملی ہے اسے اپنے سر پیر کا ہوش نہیں رہا۔وہ سب خودسری بھول گئی اور آپ کے عشق میں کچھ ایسی مست ہوئی کہ وہ آزادی کے خیال خواب ہو گئے۔اور یا تو کسی کی ماتحتی کو برداشت نہ کرتی تھی یا آپ کی غلامی کو فخر سمجھنے لگی۔اللہ اللہ ! بڑے بڑے خونخوار اور وحشی عرب مذہبی جوش سے بھرے ہوئے ، قومی غیرت سے دیوانہ ہو کر ، آپ کے خون کے پیاسے ہو کر آپ کے پاس آتے تھے اور ایسے رام ہوتے تھے کہ آپ ہی کا کلمہ پڑھنے لگ جاتے۔حضرت عمرؓ جیسا تیز مزاج گھر سے یہ تہیہ کر کے نکلا کہ آج اس مدعی نبوت کا خاتمہ ہی کر کے آؤں گا۔غصہ سے بھرا ہوا تلوار کھینچے ہوئے آپ کے پاس آتا ہے لیکن آپ کی نرمی اور وقار و سکینت اور اللہ تعالیٰ پر ایمان دیکھ کر آپ کو قتل تو کیا کرنا تھا خود اپنے نفس کو قتل