سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 58
سيرة النبي علي 58 جلد 1 ہے۔سر کے بال آپ لمبے رکھتے تھے جو کانوں کی کو تک آتے تھے۔آپ ہمیشہ بالوں میں کنگھی کرتے اور آخر عمر میں مانگ بھی نکالتے تھے۔سر میں تیل یا خوشبو لگانا بھی آپ کی عادت میں داخل تھا۔آپ کا جسم بہت نازک اور ملائم تھا۔آپ کے جسم میں سے خوشبو آتی تھی۔آپ کا سینہ چوڑا تھا اور دونوں کندھوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا۔آپ کے ہاتھ پاؤں موٹے تھے اور ہتھیلیاں خوب چوڑی تھیں۔آپ سوتی کپڑے کو اور خصوصاً دھاری دار کو زیادہ پسند فرماتے تھے اور اسی قسم کے کپڑے میں آپ دفن بھی کیے گئے تھے لیکن درحقیقت جس قسم کا کپڑا ہوتا آپ اسے استعمال کر لیتے۔اپنے آقا کی ہر ایک نعمت کا شکر کرتے۔بات کرنے کا طریق حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات بات تین دفعہ دہراتے تا کہ لوگ اچھی طرح سمجھ جاویں اور سلام بھی تین دفعہ کرتے 2۔اسی طرح حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ بات ایسی آہستگی کے ساتھ کرتے کہ اگر کوئی چاہے تو آپ کے لفظ گن لے 3 اور جس طرح دوسرے لوگ جلدی جلدی بات کرتے ہیں آپ ایسا نہ کرتے تھے۔کھانے پینے کے متعلق آپ تمام طیب اشیاء کھاتے تھے لیکن اس بات کا لحاظ رکھتے تھے کہ وہ صدقہ نہ ہوں۔حتی کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض دفعہ گھر جاتا ہوں اور وہاں بستر پر کوئی کھجور پڑی دیکھتا ہوں تو پہلے تو کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر اس خیال سے کہ کہیں صدقہ نہ ہو پھینک دیتا ہوں 4۔اس بات سے اس وقت کے مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ان کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ سے کس قدر پر ہیز کرتا تھا۔اب تو بعض لوگ اچھا بھلا مال رکھتے ہوئے بھی صدقہ کے لینے میں مضائقہ نہیں کرتے۔حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جب کوئی چیز آپ کو دیتا آپ پوچھتے۔اگر ہد یہ ہوتی تو خود بھی استعمال فرماتے