سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 43

سيرة النبي علي 43 جلد 1 میں دربار ہوا، بادشاہ سلامت نے جو کچھ فرمایا وہ اخباروں کے ذریعے کئی کانوں تک پہنچ گیا۔مگر جو لذت ان لوگوں کو آئی ہو گی جنہوں نے خود بادشاہ کے منہ سے سنا وہ ان لوگوں کو نہیں آسکتی جنہوں نے اخباروں میں پڑھا۔پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ قرآن مجید ایسا پاک اور مؤثر کلام ہے کہ تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی اپنے اندر ایک ایسی لذت رکھتا ہے کہ پاک دل مومن تو متوالے ہو جاتے ہیں۔“ صلى الله ( مدارج تقویٰ صفحہ 2 تا 6 مطبع ضیاء الاسلام قادیان اکتوبر 1919ء) رسول کریم ﷺ کے مخالفین کی ذات پس سن رکھو کہ جو نافرمانیوں سے اور خدا کے ماً موروں سے شوخیاں کرنے سے باز نہیں آتے ان کو منوایا جائے گا۔دیکھو عرب کے لوگوں نے کم ہٹیں نہیں کیں مگر رسول اللہ اللہ کے مقابلہ میں ان کی کچھ پیش نہ گئی۔وہی لوگ جو باعزت کہلاتے تھے آخر ذلیل و حقیر ہوئے اور ایسے کاٹ دیئے گئے کہ بے نام و نشان رہ گئے۔ابو جہل سید العرب تھا۔محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کیا وہ اڑ سکا؟ پھر یہاں تک خدا کے پاک بندے کو کامیابی ہوئی کہ ہر ایک بستی میں سید کہلانے والا کوئی نہ کوئی موجود ہے۔مگر ابو جہل کی نسل سے کوئی نہیں بنتا۔باوجودیکہ نسل اس کی موجود ہے مگر اس کی طرف منسوب ہونا عار کا موجب سمجھا جاتا ہے۔سید کیا ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کے لڑکے کی نہیں صلى الله بلکہ لڑکی کی اولاد ہیں۔مگر لوگ کہتے ہیں کچھ بھی ہو کسی طرح رسول اللہ ﷺ سے ہمارا تعلق تو بنا رہے۔گو قرآن مجید میں اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَنفُسِكُمْ 7 آیا ہے اور ابوجہل کی اولاد ہونا کوئی بری بات نہیں مگر پھر بھی لوگ پسند نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے خدا کے مامور کا مقابلہ کیا۔پس وہ ذلیل و حقیر ہوا۔“ مدارج تقویٰ صفحہ 11، 12 مطبع ضیاء الاسلام قادیان اکتوبر 1919ء) 1: متی باب 7 آیت 16 تا20 صفحہ 930 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء 2 بخارى كتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة صفحہ 1108 حدیث نمبر 6382