سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 486
سيرة النبي علي 486 جلد 1 چاہئے۔بہت لوگ جنہوں نے علم اخلاق کا مطالعہ نہیں کیا ہو گا وہ نہیں سمجھیں گے کہ جو قوم پہلے صبر سے کام لے سکتی ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ لڑائی کے وقت وہ دشمنوں کو پیں ہی ڈالنا چاہے۔مگر ایسا ہوتا ہے کہ پہلے صبر اور برداشت سے کام لیا جاتا ہے مگر جب لڑتے ہیں تو پیں ہی ڈالتے ہیں لیکن اسلام اس سے منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جس قدر دشمن تم پر تعدی کرتا ہے اُسی قدر بدلہ لینے کی تمہیں اجازت ہے۔اس سے زیادہ نہیں کہ دشمن کو پیس ہی ڈالنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔دراصل یہ حکم نہایت اعلیٰ درجہ کی حکمت پر مبنی ہے۔کیونکہ جو قو میں یہ چاہتی ہیں کہ اپنے دشمن کو پہیں ہی ڈالیں تا کہ وہ آئندہ سر نہ اٹھا سکے وہ دراصل اس طرح جنگ کی بنیا د رکھتی ہیں اور جو اُتنی ہی سزا دیتی ہیں جتنی ضروری ہوتی ہے وہ صلح کی بنیا د رکھتی ہیں اس لئے دشمن کو تباہ اور مٹا دینے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے بلکہ مناسب سزا دے دینی چاہئے۔اس کے علاوہ ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ بعض تو میں لڑتے وقت انصاف کو چھوڑ کر شرارت سے کام لیتی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے والے بھی شرارت سے کام لیتے ہیں۔اسلام کہتا ہے جب اپنی حفاظت کے لئے لڑنے کی ضرورت ہولر ولیکن شرارت کے مقابلہ میں شرارت سے کام نہ لینا چاہئے بلکہ عدل کو مدنظر رکھنا چاہئے۔چنانچہ فرماتا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّ وَكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا 19 اے مسلمانو! اگر تمہیں بعض قوموں نے مکہ سے روک کر عبادت نہیں کرنے دی تو اس کی وجہ سے شرارت نہ کرنا چاہئے۔یہ وہ تعلیم ہے جس سے امن اور اتفاق قائم رہ سکتا ہے کہ اگر کوئی شرارت کرے تو اس کے مقابلہ میں شرارت سے ہی کام نہیں لینا چاہئے اور عدل و انصاف کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے بلکہ عدل سے کام لینا چاہئے۔الله اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا عمل دیکھئے۔احد کی جنگ میں مخالفین نے شرارت کی کہ مسلمانوں کے جو آدمی شہید ہوئے تھے ان کے ناک کان زبان وغیرہ