سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 467

سيرة النبي علي 467 جلد 1 صلى الله دعوی سے قبل رسول کریم عہ کے مجاہدات کا رنگ رسول م حضرت مصلح موعود نے 16 مارچ 1919ء کو ” عرفانِ الہی“ کے موضوع پر جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر خطاب فرمایا جس میں رسول کریم ع کے دعوئی سے قبل مجاہدات کے رنگ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :۔”سب سے اعلیٰ درجہ کے انسان تو انبیاء ہیں۔اولیاء تو ان سے بہت کم درجہ کے ہوتے ہیں۔ان کے متعلق یہ کہنا کہ سید عبد القادر جیلانی نے ایک چور کی طرف دیکھا تو قطب بن گیا یا حضرت معین الدین چشتی کو آپ کے استاد نے ایک نظر میں اس درجہ تک پہنچا دیا اور انہیں سب کچھ حاصل ہو گیا بالکل غلط ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وہ رسول جس کے طفیل اور جس کی غلامی سے ان کو سب کچھ ملا اس کو خدا کس طرح ملا۔اس کے لئے قرآن و حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے۔قرآن میں خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی 1 کہ ہم نے تجھ کو اپنی محبت میں جب ایسا پھو ر پایا کہ تمہیں اپنے سر پیر کی بھی خبر نہ رہی اور تو جب محبت الہی میں ایسا گم ہو گیا کہ تجھے اپنا پتہ ہی نہ رہا اُس وقت ہم نے تجھے ہدایت دی۔صال کے معنی محبت میں چور اور گم ہونے کے ہیں اور قرآن اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ رسول کریم ہے کبھی گمراہی اور ضلالت میں نہیں پڑے مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى 2 بلکہ آپ کے ہر ایک فعل کو اسوہ حسنہ قرار دیتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ 3 اب خال کے معنی ایسے ہی کئے جائیں گے جو دوسری آیات کے مطابق ہوں اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو میری محبت میں اس قدر گم ہو گیا تھا کہ