سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 32
سيرة النبي علي 32 جلد 1 ج پھر فرمایا کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی 2 یعنی آپ نے جو کچھ پھینکا وہ آپ کا پھینکا ہوا نہ تھا بلکہ اللہ نے پھینکا تھا۔اسی طرح ارشاد ہوا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 3 یعنی کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانیاں اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے جو رب العالمین ہے۔غرضیکہ آپ نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے منشا کے آگے اس طرح ڈال دیا تھا کہ آپ کی ساری زندگی میں ایک نمونہ بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ آپ نے کبھی اپنی بڑائی بھی چاہی ہو۔چنانچہ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبین کے مرتبہ پر قائم کر کے آپ پر ہر قسم کی نبوتوں کا خاتمہ کر دیا۔اور آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے ایک ہی دروازہ کھلا رکھا گیا ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا دروازہ ہے۔ایک زمانہ تھا جبکہ مختلف ممالک میں مختلف قوموں کے لئے انبیاء آتے تھے اور ایک کا دوسرے سے کچھ تعلق نہ ہوتا تھا لیکن آپ کی بعثت کے بعد کوئی شخص مامور نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی مہر نہ ہو۔صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ کے کمالات اس حد تک پہنچے کہ آپ کے بعد کوئی مامور من اللہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ آپ کی اس پر اتباع کی مہر نہ ہو۔بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ آپ کے کمالات اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کی ان منازل تک پہنچ گئے کہ آپ کی اتباع کی برکت سے ایسے ایسے لوگ پیدا ہو چکے ہیں کہ جو بڑے بڑے انبیاء کا مرتبہ رکھتے تھے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانُبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل 4 اور آپ کا فیض قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا۔کسی نبی کا سوسال ، کسی کا دوسوسال تک، کسی کا ہزار، کسی کا دو ہزار سال تک سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد ان کا نور تاریک دلوں کو روشن نہ کر سکا۔لیکن آپ کا نور جب تک کہ دنیا قائم ہے لاکھوں، کروڑوں انسانوں کے دلوں کو منور کرتے ہوئے سلوک کی اعلیٰ سے اعلیٰ راہوں کو طے کراتا رہے گا۔آپ کو دوسرے انبیاء ورسل پر ہزاروں فضیلتیں ہیں مثلاً یہ کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صلى الله