سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 31
سيرة النبي علي 31 جلد 1 خاتم النبين الله صلى الله بدر 23 مارچ 1911ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ” خاتم النبیین“ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر فرمایا جس کا مکمل متن درج ذیل ہے:۔”ہمارا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ اپنے مخفی در مخفی تعلقات الہیہ کی وجہ سے اس بلند مقام تک پہنچ گئے تھے کہ آپ کے رتبہ کا سمجھنا ایک نہایت مشکل امر ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان انسان دنیا میں گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو ہی پاک نہیں کیا بلکہ قوموں کی قوموں کو سدھار دیا اور جو خدا تعالیٰ کے احکام میں ایسے منہمک ہوئے کہ بس فنا ہی ہو گئے۔لیکن جس مقام پر آنحضرت ﷺ نے قدم مارا اُس تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔انسانی زندگی کا کوئی سا پہلو ہی لے لیں آپ بے نظیر ہی معلوم ہوتے ہیں۔بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اور بے کسی ، بے بسی کی حالت سے لے کر ایک ملک کے بادشاہ ہونے تک کی مختلف حالتوں میں کوئی پہلو بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ جس میں آپ کے طریق عمل پر کسی قسم کی حرف گیری کا موقع ملے۔بلکہ جہاں تک غور کریں کمال ہی کمال نظر آتا ہے۔اکثر لوگوں میں جن کو بادی النظر میں کامل سمجھا جاتا ہے غور کریں تو بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن یہ ایک رسول اللہ ﷺ کی ہی ذات ہے کہ نظر کو کتنا ہی باریک کرتے چلے جاؤ آپ کی کمزوریاں نہیں بلکہ آپ کے کمال ہی کمال کھلتے چلے جائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحی 1 یعنی آپ کبھی بھی ہوائے نفس سے کلام نہیں کرتے تھے بلکہ منشاء الہی کے ماتحت ہی آپ کے سب کام تھے۔