سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 29
سيرة النبي علي 29 جلد 1 ہوتا ہے بیوی بچہ کو جنگل میں چھوڑ آؤ آپ اس پر بھی تیار ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابرا ہیم سے بڑھ کر لَا شَرِیکَ لَہ کو دکھایا۔مکہ کے کفار، مدینہ کے منافق ، یہود، مجوس ، مصر کے قبطی ، شامی ، رسول اللہ ہے کے مخالف تھے۔بڑے بڑے مقابلہ آپ کے ہوئے مگر آپ نے اپنی پاک تعلیم کو چھپایا نہیں بلکہ پانچ وقت چھتوں پر چڑھ چڑھ کر اس کے اعلان کی ہدایت فرمائی۔آخر وہی شریر لوگ شرمسار ہو کر آپ کے حضور آئے۔آپ نے پوچھا کہ تم سے کیا سلوک کیا جائے؟ تو گردنیں نیچی کئے ہوئے بولے جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا۔آپ نے فرمایا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 2 آپ کی ذات مجسم رحم تھی۔طائف کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں کتنے میل دوڑ آیا اور مجھے معلوم نہ تھا کہ کدھر جا رہا ہوں۔فرشتہ نے عرض کیا کہ اشارہ کی دیر ہے ابھی طائف کو الٹ دوں۔آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں اللہ انہیں ٹیک کر دے گا 3۔آپ نے اپنی تعلیم کو اپنے عقائد کو بھی نہیں چھپایا بلکہ پکار پکار کے کہا اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ میں خدا کا سب سے پہلا فرمانبردار اور اول درجہ کا مسلمان ہوں۔ایک موقع کا ذکر ہے کہ آپ ایک درخت کے نیچے لیٹے تھے ایک شریر آیا اور آپ کی تلوار اٹھا کر بولا آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ تو آپ نے بڑے وثوق کے ساتھ بلند آواز سے کہا اللہ۔یہ سننا تھا کہ اس کے ہاتھ کانپ گئے اور تلوار گر پڑی 4۔ایک جنگ میں آپ اکیلے رہ گئے بڑا نازک وقت تھا۔چاروں طرف دشمنوں کا نرغہ مگر آپ بڑی جرات کے ساتھ دشمنوں کے قریب ہو کر کہہ رہے ہیں اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب کہ دیکھو میں نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں۔ہاں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں 5۔یہ ہمارا پاک رسول مقتدا تھا جس نے نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے ہر فعل بتادیا کہ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ۔رسول الله الله کے کمالات اس درجہ بلند تھے کہ اگر کوئی خدائی کے لائق ہو سکتا ہے تو رسول اللہ یہ تھے۔مگر آپ کا اللهُ إِلَّا الله کے ساتھ ساتھ تعلیم دیتے ہیں کہ محمد اللہ کا فرستادہ ہے۔پھر کفار کو