سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 28

سيرة النبي علي 28 جلد 1 صلى الله رسول کریم ماہ کا جینا اور مرنا بس خدا کے واسطے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اپنی ایک تقریر میں جو ”بدر“ جنوری 1911ء میں شائع ہوئی رسول کریم میہ کے تمام اقوال وافعال اور اپنی ذات میں خدا میں فنا شدہ ہونے کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ 1 - یہ حال ہے اس شخص کا جس کا جینا اور مرنا اللہ رب العالمین کے واسطے ہے۔اس میں ایک تصوف کا نکتہ ہے وہ یہ کہ دو مدارج کا بیان ہے۔فنا اور بقا۔نُشک، نسیکہ قربانی کو کہتے ہیں اور کپڑوں کو جو میل لگا ہے اسے دھو کر صاف کرنا۔صلوٰۃ زندگی کا باعث ہے۔وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عبادت جس سے انسان خدا تک پہنچتا ہے۔اس کے بھی دو درجے ہیں۔ایک تو اس حالت میں مومن آجاتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اور ایک اس سے کم کہ یہ سمجھے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔جب انسان تن ، من ، دھن سے اللہ پر قربان ہو جاتا ہے تو فنا کے مقام سے گزر کر بقا کے درجے میں آتا ہے۔صلوۃ کے مقابلہ میں مَحْيَايَ رکھا ہے اور نُسکی کے مقابلہ میں مَمَاتِي۔ایسے شخص کو جو اپنی نفسانی خواہشات قربان کر دیتا ہے اور اپنے دل کو دھو کر پاک وصاف بنالیتا ہے ایسی زندگی عطا ہوتی ہے جس میں اسے خدا ہی خدا نظر آتا ہے۔یہ ابراہیم کی صل الله شان ہے۔رسول کریم ﷺ اعلان فرماتے ہیں کہ اس درجہ کو میں بھی پہنچ گیا۔یہ ابرا ہیمی درجہ ہے کہ حکم ہوتا ہے بچہ کو ذبح کرو۔آپ بغیر عذر کے اس پر طیار ہیں۔حکم