سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 414
سيرة النبي علي 414 جلد 1 فلاں فلاں ستارے کے اثر سے ہوئی وہ اللہ کے کافر ہیں اور ستاروں کے مومن۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ستاروں کے تغیرات کا کوئی اثر ہی نہیں۔بعض لوگ کم فہمی کے باعث یہ مفہوم نکالتے ہیں کہ اس حدیث میں کواکب کے اثرات سے انکار کیا گیا ہے۔پھر وہ اس یقینی اور مشاہدہ میں آئی ہوئی بات کا انکار کرنے لگ جاتے ہیں کہ نہیں کواکب کا کوئی اثر نہیں حالانکہ ان کا اثر ہوتا اور ضرور ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی ذات کو بالکل نظر انداز کر کے بکلی ستاروں پر انحصار کرنا کہ بارش جو برساتے ہیں تو یہ ستارے ہی برساتے ہیں یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں۔مگر ایسا شخص خدا کا منکر نہیں جو خدا کو اصل موجب قرار دیتا ہے اور اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہی ان ستاروں کو پیدا کیا اور ان میں اثرات رکھے اور اسی کے ارادے کے ماتحت وہ اپنا اثر کرتے ہیں۔دیکھئے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینا شرک ہے مگر یہ عقیدہ کہ ملائکہ خدا کا کلام لاتے ہیں ، تثبیت قلب وغیرہ کرتے ہیں شرک نہیں ہے لیکن ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔مشرک اور کافر بھی مانتے ہیں کہ ملائکہ ہیں اور وہ کچھ کام کرتے ہیں اور مسلمان بھی مانتے آئے اور مانتے ہیں کہ فرشتے ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری اور لازمی ہے مگر باوجود اس کے کافر مشرک کہلائے۔کیوں؟ اسی لئے کہ کفار کا ماننا اس رنگ میں ہے کہ فرشتے جو کچھ کرتے ہیں خود ہی کرتے ہیں مگر مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے تمام کام خدا تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت ہوتے ہیں اس لئے یہ شرک نہیں۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا۔آپ نے پوچھا تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ باہر کھلا چھوڑ دیا ہے اور اللہ پر توکل کر کے آپ کے پاس آ گیا ہوں۔فرمایا جاؤ اونٹ کا گھٹا باندھو پھر تو کل کرو۔“ (الفضل 7 نومبر 1916ء) حضرت مصلح موعود اسی خطبہ میں فرماتے ہیں:۔66 احادیث میں آیا ہے کہ کئی بار آنحضرت ﷺ کو ایسا موقع پیش آیا کہ سفر میں