سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 413

سيرة النبي علي 413 جلد 1 تو کل کے بارہ میں رسول کریم ﷺ کا اسوہ حضرت مصلح موعود نے 27 اکتوبر 1916 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ہی جو کام ہوتا ہے، ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے ارادے اور منشا کے ماتحت بنی نوع انسان کے لئے کچھ قوانین بھی مقرر فرمائے ہیں اگر انسان ان سے ایک طرف ہو جاتا ہے تو دکھ اٹھاتا ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ دعا اور توکل کا مسئلہ ایک اہم اور ضروری مسئلہ ہے اور یہ بات بالکل درست ہے کہ جو کچھ دعا کر سکتی ہے وہ کوئی اور چیز نہیں کر سکتی۔اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ سامان کو بھی اس میں بڑا دخل ہے۔ہاں صرف سامان پر ہی بھروسہ کر لینا کہ جو کچھ ہو سکتا ہے بس انہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے یہ شرک ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا أَتَعْلَمُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمُ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں ہمیں تو علم نہیں۔آپ نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَنْ قَالَ مُطِرُنَا بِنَوْءٍ كَذَاوَ كَذَا کہ جس نے کہا بارشیں فلاں فلاں ستارے کے اثر سے ہوتی ہیں اور یہ بارش جو ہوئی تو اس لئے ہوئی کہ اس ستارے نے اپنا اثر کیا۔ایسا شخص كَافِرٌ بِی وَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوَاكِب 1 وہ میرا تو کافر ہوتا ہے لیکن ستاروں پر ایمان لانے والا ہوتا ہے۔لیکن اس میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ موسموں پر کواکب کا بڑا اثر ہوتا ہے۔باند اور سورج بھی کواکب میں سے ہی ہیں اور ان کا موسموں کے ساتھ بڑا بھاری تعلق ہے مگر باوجود اس کے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بارش