سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 27
سيرة النبي علي 27 جلد 1 ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔اور اپنے آپ کو شہزادہ کہتا تھا، جو یہودیوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کر رہا تھا، جو رومن سلطنت کی بھی کچھ حقیقت نہ سمجھتا تھا، جسے اپنی ترقیوں کی بڑی بڑی امیدیں تھیں اور جو آسمانی بادشاہت کے وعدے دے کر اپنے حواریوں کے حوصلہ کو بڑھا رہا تھا یہودیوں کے قبضہ میں پڑا اور کچھ ایسا پھنسا کہ آخر نہایت کرب واندوہ اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔اور اُس وقت اس کے دشمنوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور کانٹوں کا تاج پہنایا اور پانی کی جگہ سرکہ پلایا۔اور اس بے بسی اور بے کسی کی حالت میں وہ چینیا اور ایلی ایلی لما سبقتنی 2 کی دردناک اور مایوسی کی مجسم آواز اس کے منہ سے نکلی اور بقول مسیحیوں کے ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اور ساتھ ہی ان تمام دعووں پر جو اس نے اپنی ذات کی نسبت اور حواریوں کے بارے میں کئے تھے پانی پھر گیا۔اب بتاؤ کہ کیا وہ شخص جو باوجود سخت سے سخت مصیبتوں کے اور دشمنوں کے حملہ کے کامیاب ہوا خدا کا بیٹا کہلانے کا مستحق ہے یا وہ جو مقابلۂ چین اور آرام سے زندگی بسر کر رہا تھا اور جس کے راستہ میں کوئی سخت رکاوٹیں نہیں تھیں مگر باوجود اس کے ناکامی و نامرادی سے اس دنیا سے گزر گیا (بقول مسیحی صاحبان کے )۔تشخیذ الا ذہان اگست 1910 ءصفحہ 305 تا 309) 1: السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 208 زیر عنوان فتح مكة شرفها الله تعالى مطبوعہ بیروت لبنان $2012 2 متی باب 27 آیت 46 صفحہ 957 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011 ء