سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 385
سيرة النبي علي 385 جلد 1 سے صحابہ کو قرآن سکھاتے تھے) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہورہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہوگا۔اس کا جواب سورۃ نصر میں خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی۔اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پاسکتے۔مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا سے دعا مانگے کہ اے خدا! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کردے۔پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ کو استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی ہے۔تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت مے کے زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا ، کوئی شام میں، کوئی عراق میں تھا، کوئی بحرین میں اور کوئی نجد میں تھا۔اس لئے نہ آنحضرت ﷺ ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آسکتے تھے۔جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا۔لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر کیونکہ شاگرد صلى الله