سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 384

سيرة النبي علي 384 جلد 1 بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے۔اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو نفع پہنچانے کے خود اس کے بداثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ آیا تو اسلام کے لئے بھی یہی مشکل در پیش تھی گو اسلام ایک نبی کے ماتحت ترقی کر رہا تھا لیکن نبی با وجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کے تمام کام خواہ کسی حد تک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تھیں چالیس نہیں بلکہ سو سوا سولڑکوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہولیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزارلر کے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ؟ کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے ، کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یاد بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہوگا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے۔یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کر سکیں گے۔پس آنحضرت علی کو جب فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہوئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا، قرآن سکھا سکتا تھا ( چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺے بڑی پابندی صلى الله