سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 383

سيرة النبي علي 383 جلد 1 بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ 3 دوم سورة محمد میں یوں آیا ہے فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَاللهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَنكُمْ 4 سوم سورۃ فتح میں آیا ہے اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا - لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبُكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا 5۔اسی طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ان سب جگہوں پر اگر ہم غور کریں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے جو سارے اعتراضوں کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں آنحضرت ﷺ کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ گناہ کا کیا تعلق ہے۔اور یہی بات ہے جس کے بیان کرنے کے لئے میں نے یہ سورۃ پڑھی ہے اور جس سے ہمیں اقوام کے تنزل و ترقی کے قواعد کا علم ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے ان آیات کے یہ معنی کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کو یہ فرماتا ہے کہ اب تمہاری فتح ہوگئی اور تمہارے دشمن مغلوب ہو گئے۔اس لئے تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے پس تو تو بہ اور استغفار کر کیونکہ تیری موت کے دن قریب آگئے ہیں۔اور گو یہ استدلال درست ہے لیکن ان معنوں پر بھی وہ اعتراض قائم رہتا ہے کہ آپ نے کوئی گناہ کئے ہی ہیں اسی لئے تو بہ کا حکم ہوتا ہے۔میں نے جب ان آیات پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عجیب بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور برائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش وعشرت کے جذبات اپنے اندر لیتی جاتی ہے۔اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے