سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 374

سيرة النبي علي 374 جلد 1 امتی نبی کا آنا رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں بلکہ عزت کا باعث ہے انوار خلافت (فرمودہ دسمبر 1915ء) میں حضرت مصلح موعود اس بات کو بیان صلى الله کرتے ہوئے کہ رسول کریم ﷺ کی امت میں نبی آنا آپ عہ کے لئے باعث ہتک نہیں بلکہ عزت کا باعث ہے۔فرماتے ہیں:۔”ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ آنحضرت مے کے بعد کسی نبی کا آنا خواہ وہ آپ کے فیض سے ہی کیوں نہ نبی بنے آپ کی ہتک ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے کیونکہ نبوت تو خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جو وہ اپنے الله بندوں پر نازل کیا کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ وہ رسول ہیں جو سارے جہان کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے۔لیکن آپ کے آنے پر کہا جاتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ نے وہ سارے فیض بند کر دیئے ہیں جو آپ سے پہلے اپنے بندوں پر کیا کرتا تھا۔آپ سے پہلے تو نبی پر نبی بھیجتا تھا۔جو اس کی طرف گرتا اسے اٹھاتا تھا۔جو اس کی طرف جھکتا اسے پکڑتا تھا۔جو اس کے آگے گڑ گڑاتا اسے چپ کراتا تھا۔اور جو اس کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتا اسے نبی بناتا تھا۔لیکن (نعوذ باللہ ) اب ایسا بخیل ہو گیا ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی روئے چلائے اور کتنے ہی اعمال صالحہ کرے اس نے کہہ دیا ہے کہ اب میں کسی کو منہ نہیں لگاؤں گا اور اگر لگاؤں گا تو ادنی درجہ پر رکھوں گا پورا نبی کبھی نہیں بناؤں گا۔