سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 373
سيرة النبي علي 373 جلد 1 ہیں نام نہیں۔اس لئے غیر مبائعین کا یہ استدلال بھی غلط ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کا احمد نام اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے ورنہ اگر صرف محمد نام پر نَعُوذُ بِاللهِ آپ نے فخر کیا تھا تو اس نام کے تو اور بہت سے انسان دنیا میں موجود ہیں۔کیا وہ سب اپنے ناموں پر فخر کر سکتے ہیں اور کیا ان کا یہ فخر بجا ہوگا ؟ اگر نہیں تو کیوں اس حدیث کے ایسے معنی کئے جاتے ہیں جن میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور نَعُوذُ بِاللهِ آپ پر الزام آتا ہے کہ آپ اپنے ناموں پر فخر کیا کرتے تھے۔یہ حرکت تو ایک معمولی انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ خدا کا نبی اور پھر تمام نبیوں کا سردار ایسی بات کرے۔ہمارے مخالف ذرا اتنا تو سوچیں کہ وہ ہماری مخالفت میں رسول کریم ﷺ پر بھی حملہ کرنے لگ گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ منم محمد واحمد کہ مجتبی باشد۔کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بھی یہ سب نام تھے۔احمد نام گو اختلافی ہے لیکن محمد تو آپ کا نام ہرگز نہ تھا۔پھر کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں صفت محمد یت ہے اور یہی بات قابل فخر ہو بھی سکتی ہے۔صرف نام محمد آپ کے لئے باعث فخر کیونکر ہوسکتا تھا اور حضرت مسیح موعود کا نام محمد تو تھا بھی نہیں کہ یہاں وہ دھوکا لگ سکے۔“ 66 (انوار خلافت صفحہ 24 تا 30) 1: بنی اسرائیل: 80 2: بنی اسرائیل: 82 3: بخارى كتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول الله الا الله صفحه 594 حدیث نمبر 3532 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 4:الحشر: 25 :5 مسند احمد بن حنبل صفحہ 1413 حدیث نمبر 19754 مطبوعہ لبنان 2004 ء