سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 21
سيرة النبي علي 21 جلد 1 مدعی نبوت نظر نہ آتا ہو۔چنانچہ کرشن ، رام چندر ، بدھ ، کنفیوشس ، زرتشت ، موسی اور عیسی تو ایسے ہیں کہ جن کے پیرو اب تک دنیا میں موجود ہیں اور بڑے زور سے اپنا کام کر رہے ہیں اور ہر ایک اپنی ہی سچائی کا دعویٰ پیش کرتا ہے۔مگر آنحضرت ﷺ کے دعوئی کے بعد تیرہ سو برس گزر گئے ہیں کہ کسی نے آج تک نبوت کا دعوی کر کے کامیابی حاصل نہیں کی۔آخر آپ سے پہلے بھی تو لوگ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کامیاب ہوئے (جن کو ہم تو سچا ہی سمجھتے ہیں ) مگر آپ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ کیوں بند ہو گیا، اب کیوں کوئی کامیاب نہیں ہوتا ؟ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی پیشگوئی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔اب ہم اسلام کے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کیا نشان ہو سکتا ہے کہ آپ کے دعوے کے بعد کوئی شخص جو مدعی نبوت ہوا ہو کامیاب نہیں ہوا۔پس اس کی طرف اشارہ تھا کہ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمًا یعنی ہم نے آپ کو خاتم النبیین بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہ آئے گا اور کوئی جھوٹا آدمی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرے گا کہ ہم اس کو ہلاک نہ کر دیں۔چنانچہ یہ ایک تاریخی پیشگوئی ہے کہ اس کا رڈ کسی سے ممکن نہیں۔اگر ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو۔مگر اس طرح نہیں کہ کسی نے دعوی کیا ہو اور لاکھ دو لاکھ اس کے پیرو ہو گئے۔بلکہ ایسا آدمی کہ جس نے آنحضرت ﷺ یا آپ سے پہلے نبیوں کی طرح کامیابی حاصل کی ہو مگر کوئی نہیں جو ایسی نظیر پیش کر سکے۔غرض قرآن شریف نے بڑے زور سے دعوی کیا ہے کہ میں تمام دنیا کے لئے آیا ہوں اور ہر زمانہ کے لئے ہوں مگر برخلاف اس کے جیسے کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں دوسری کتب کا یہ دعویٰ نہیں۔اس لئے ان کا دعوی کرنا کہ ہم نجات سب عالم کے لئے پیش کرتے ہیں کسی طرح بھی درست نہیں اور ان کا کوئی اختیار نہیں کہ اپنی تعلیم غیر مذاہب کے سامنے پیش کریں۔اور جب ان کو ان کی کتب اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتیں تو ہمارے سامنے ان کا اپنی نجات کو پیش کرنا ہی غلط ہے۔کیونکہ ان کی نجات تو انہی تک