سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 341
سيرة النبي علي 341 الله جلد 1 ظاہر ہے۔اسی طرح گل دنیا کی طرف ہونے کا دعوی آنحضرت ﷺ نے بہت بعد میں کیا اور قرآن کریم کی وہ آیات جن میں سب دنیا کو اس نو ر و ہدایت کی پیروی کی دعوت دی گئی ہے بہت مدت بعد کی ہیں۔پھر خاتم النبین ہونے کا اعلان بھی مدینہ میں ہوا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح کا دعوی بھی آہستہ آہستہ ہوا ہے اور کلیسیا کی تاریخ کے واقفوں نے اس امر پر کتابیں لکھی ہیں کہ حضرت مسیح نے آہستہ آہستہ اپنے دعوئی کو ظاہر کیا۔اور انا جیل کو جو شخص غور سے پڑھے گا وہ بھی یہ بات معلوم کر لے گا کہ حضرت مسیح کا دعوی بھی بتدریج ظاہر ہوا۔غرض کہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اصل دعوی کو اپنے کلام میں ظاہر تو پہلے ہی کر دیتا ہے لیکن اس پر ایک پردہ ڈال دیتا ہے جسے ایک خاص وقت پر اٹھا دیتا ہے۔ہمارے آنحضرت ﷺ جب مبعوث ہوئے تو اُسی وقت سے خاتم النبیین تھے۔اور قرآن کریم کی ایک ایک آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں۔لیکن ظاہر الفاظ میں بعد میں اعلان کیا گیا کہ اب یہ شخص خاتم النبیین ہے۔صلى الله یہ میری ہی تحقیق نہیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی اپنا عقیدہ اسی کے مطابق بیان فرمایا ہے اور مسیح موعود کے بیان کے فیصلہ کے بعد مؤمن کو تردد کی گنجائش نہیں رہتی۔آپ فرماتے ہیں: جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یک دفعہ نہیں اترتے۔اسی بنا پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت علی کے معارف بھی یک دفعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ایسا ہی میں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔آنحضرت ﷺ کی تدریجی ترقی میں سر یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا۔پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تکمیل معارف