سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 340
سيرة النبي علي 340 جلد 1 صلى الله رسول کریم کی تدریجی ترقی حقیقۃ النبوة“ کتاب (مطبوعہ 3 مارچ 1915ء) میں ہی حضرت مصلح موعود نے رسول کریم ہے کے تدریجی دعاوی اور ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔قرآن کریم کے آہستہ آہستہ اتر نے کی غرض یہ تھی تا کہ صحابہ اس پر پورے طور پر عامل ہو جائیں اور ایک ایک حکم کو اچھی طرح یاد کر لیں۔حضرت موئی پر یکدم کتاب اس لئے نازل ہوئی کہ ان کی سب جماعت ان کے ماتحت تھی اور وہ بادشاہانہ اقتدار رکھتے تھے۔لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو ایک خطرناک مخالف قوم کو منوانا اور پھر راہ راست پر چلانا پڑتا تھا۔پس اپنے بندوں کی آسانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے آہستہ آہستہ کتاب اتاری۔اس وقت حضرت مسیح موعود کے دعوے کا اظہار بھی اسی لئے آہستہ آہستہ ہوا۔اور گو خدا تعالیٰ تو براہین کے وقت سے اپنا فیصلہ صادر فرما چکا تھا لیکن اس کا ظہور آہستہ آہستہ ہوا۔یعنی اول 1891ء میں اور پھر 1901ء میں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے بہت سی کمزور طبائع پر رحم فرما کر انہیں ٹھوکر کھانے سے بچا لیا۔اور جس قدر استعداد پیدا ہوتی گئی ان پر اظہار کیا جاتا رہا اور آنحضرت ﷺ کا دعوی بھی اسی طرح ہوا۔سب سے پہلے آپ پر اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 1 نازل ہوئی۔اس میں دیکھ لو کہ نبی کے نام سے آپ کو نہیں پکارا گیا۔پھر سورۃ مزمل کی ابتدائی چند آیات نازل ہوئیں اور آپ کو مامور مقرر کیا گیا لیکن ان میں بھی نبی اور رسول کا لفظ نہیں۔ہاں چند ماہ کے اندر آپ کو رسول کے لفظ سے یاد کیا گیا جیسا کہ سورۃ مزمل کی آخری آیات سے