سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 310

سيرة النبي علي 310 جلد 1 جامع کمالات حسنہ 9 جنوری 1914ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے قادیان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا:۔اس کتاب کا لانے والا جامع کمالات حسنہ تھا۔جو کچھ قرآن کریم میں مذکور ہے وہ سب اس نے کر کے دکھلا دیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے نبی کریم علی کی سیرت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت قرآن صلى الله ہے 1 جو قرآن میں مذکور ہے وہ سب کچھ آپ کرتے ہیں۔انسان کے سب سے زیادہ واقف اس کے گھر کے لوگ ہوتے ہیں۔کوئی انسان اگر با ہر اپنی حرکات لوگوں سے مخفی رکھ لے تو تکلف اور بناوٹ سے رکھ سکتا ہے لیکن گھر کے لوگوں سے وہ کسی حالت میں مخفی نہیں رہ سکتیں کیونکہ ہر وقت انسان نے انہیں میں رہنا ہوا تو آخر کب تک وہ ان سے چھپا سکتا ہے۔یہ گواہی حضرت عائشہ کی ہے کہ آپ کی سیرت قرآن تھا۔وہ ایک اعلیٰ درجہ کا انسان تھا جس نے ہمیں عمل کر کے دکھلا دیا۔(افضل 14 جنوری 1914ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود نے 14 مارچ 1914 ء کو مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے فوراً بعد پہلی بیعت عام لی اور اُس کے بعد اپنے خطاب میں حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے عظیم الشان مقام اور ارفع شان کا اقرار کرتے ہوئے فرمایا :۔سنو دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آ سکتا جو صلى الله