سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 292

سيرة النبي علي 292 جلد 1 لیے بھی تشریح کی ضرورت ہے۔الہام انسان کو دو طرح ہوتے ہیں۔کبھی ترقی کے لیے، کبھی حجت کے لیے۔یعنی کبھی تو خدا تعالیٰ انسان کو اس کے درجہ کے بلند کر نے کے لیے مخاطب فرماتا ہے اور کبھی اس پر حجت قائم کرنے کے لیے۔چنانچہ بہت سے لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص قرب نہیں رکھتے ان کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور وہ نادانی سے اس پر اترا جاتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے آزمائش اور ان پر حجت ہوتے ہیں۔اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے ان الہامات سے فائدہ اٹھا نے کے وہ فخر و تکبر میں پڑ جاتے ہیں اور آخر ہلاک ہو جاتے ہیں۔رسول کریم ع چونکہ تواضع کے عالی مقام پر پہنچے تھے جب آپ کو الہام ہوا تو آپ گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام مجھ پر بطور آزمائش اور حجت نازل ہوا ہو اور یہ اپنا خوف حضرت خدیجہ کے آگے بیان فرمایا جس پر انہوں نے آپ کو تسلی دلائی اور بتایا کہ جو اخلاق آپ کے ہیں اور جس مقام پر آپ ہیں کیا ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ ضائع کرتا ہے؟ اور اپنا یقین ظاہر کرنے کے لیے انہوں نے قسم کھائی کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان کبھی ضائع نہیں ہوسکتا۔حجت اور آزمائش کے لیے تو ان کے الہام ہو سکتے ہیں جن کے اعمال میں کمزوری ہو یا متکبر ہوں۔جو شخص آپ جیسا غریبوں کا خبر گیر اور اخلاق حسنہ کا ظاہر کرنے والا ہے کیا ان کو اللہ تعالیٰ تباہ کر سکتا ہے؟ غرض حضرت خدیجہ کا جواب ظاہر کر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے خوف ہے کہ میری آزمائش نہ ہو۔جس پر انہوں نے تسلی دی کہ آپ آزمائش کے مقام سے بالا ہیں۔آپ پر یہ الہامات خدا تعالیٰ کے انعامات کے طور پر نازل ہوئے ہیں چنانچہ آئندہ کی وحی نے آپ پر روزِ روشن کی طرح کھول دیا کہ آپ خدا تعالیٰ کے مقبول تھے اور آپ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ آپ کا کہنا کہ میں کہاں اس الہام کا سنانے والا ہو سکتا ہوں“ صرف تواضع کے طور پر تھا نہ کہ بوجہ ستی اور ڈر کے کیونکہ جس جرات اور زور سے آپ نے کام کیا اس کی نظیر کسی