سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 291
سيرة النبي علي 291 جلد 1 ایک یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ اس ذریعہ سے آپ کو اپنے کمالات پر واقف کیا جانا تھا میرے نزدیک تو اس کا ایک یہ بھی مطلب تھا کہ جب فرشتہ نے آپ کو اس بات کی خبر دی کہ دنیا کو خدا کا کلام سنانے پر آپ مامور کیے گئے ہیں تو اس نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ یہ شخص خوشی سے اچھل پڑے اور خود اس پیغام کو لے کر چل پڑے اور لوگوں کو فخر یہ سنائے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے اس نے تو وہ رنگ انکسار اختیار کیا ہے جو کسی انسان نے اس سے پہلے اختیار نہ کیا تھا تو اس کا دل محبت کے جوش سے بھر گیا اور بے اختیار ہو کر اس نے آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا جو اور محبت کی لہر کا ایک ظہور تھا جو اس کے دل میں پیدا ہو گئی تھی۔اور جب آپ کو گلے لگا کر اس نے چھوڑا اور پھر وہی پیغام دیا اور پھر وہی جواب سنا تو محبت کی آگ نے ایک اور شعلہ مارا اور پھر اس نے آپ کو گلے لگا لیا اور اسی طرح تیسری دفعہ کیا۔اور تیسری دفعہ کے بعد آپ کے سامنے وحی الہی کے الفاظ پڑھے کہ اب تو آپ جو کچھ بھی کہیں یہ خدا کی امانت آپ کے سپرد ہو گئی ہے اور آپ نے بلا چون و چرا اسے قبول کیا۔لیکن آپ کے انکسار کو دیکھو کہ اب بھی تسلی نہیں ہوئی۔اس قدر اصرار سے حکم ملتا ہے لیکن بھاگے بھاگے حضرت خدیجہ کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی جان پر ڈر آتا ہے۔اے نبیوں کے سردار! اے انسانی کمالات کے جامع ! اے بنی نوع انسان کے لیے ایک ہی رہنما! تجھ پر میری جان قربان ہو۔تو اب بھی اپنے کمالات سے آنکھیں بند کرتا ہے اور یہی خیال کرتا ہے کہ میں اس قابل کہاں جو اس وحدہ لاشریک کے پیغام کا اٹھانے والا بنوں۔فرشتہ تاکید پر تاکید کرتا ہے اور پیغام الہی آپ تک پہنچاتا ہے لیکن باوجود اس کے آپ ابھی تک اپنے حسن سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور بار بار یہی فرماتے ہیں کہ میں اس قابل کہاں حتی کہ گھر آ کر اپنی غمگسار حضرت خدیجہ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی جان پر خائف ہوں۔چونکہ یہ فقرہ بھی اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے اس لیے اس کے سمجھانے کے