سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 290
سيرة النبي علي 290 جلد 1 تمام فساد تکبر یا عدم انکسار سے پیدا ہوتے ہیں۔تکبر جب لوگوں میں پھیل جائے تب تو بہت ہی فساد ہوگا کیونکہ ہر ایک شخص کہے گا میں دوسروں سے بڑا ہو جاؤں۔لیکن اگر تکبر نہ ہو اور انکسار بھی نہ ہو تب بھی فساد ہو جائے گا کیونکہ اکثر جھگڑے اُسی وقت ہوتے ہیں جبکہ طرفین میں سے ہر ایک شخص اپنے حق پر اڑا ر ہے۔اگر ایک ان میں سے اپنے حق کو ترک کر دے تو پھر سب جھگڑے بند ہو جائیں۔پس انکسار دنیا کے امن وامان کے بڑھانے میں ایک زبر دست آلہ ہے اور ایثار کے ساتھ مل کر فساد کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتا ہے ورنہ جھوٹ بولنا انکسار نہیں کہلا تا۔جیسا کہ ان دنوں عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔اور نہ انکسار اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص سستی اور غفلت کی وجہ سے کام سے جی چرائے۔بعض لوگ جنہیں کام کی عادت نہیں ہوتی ستی سے ان کا پالا پڑا ہوا ہوتا ہے وہ انکسار کے پردہ میں اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں لیکن اس کا نام انکسار نہیں ، وہ غفلت اور سستی ہے۔منکسر المزاج وہی شخص ہے کہ وہ کام کی اہلیت رکھتے ہوئے پھر خدا تعالیٰ کے جلال پر نظر کرتے ہوئے اپنی کمزوری کا مقر ہو۔لیکن جب اس کے کام سپرد ہو تو پوری ہمت سے اس کام کو کرے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے کیا کہ با وجود اس انکسار کے جب آپ کے سپر د اصلاح عالم کا کام کر دیا گیا تو وہی شخص جو میں پڑھنا نہیں جانتا کہہ کر اپنی کمزوری کا اقرار کر رہا تھا رات اور دن اس تند ہی سے اس کام کے بجالانے میں لگ گیا کہ دنیا دنگ ہوگئی اور کوئی انسان اس قدر کام کر نے والا نظر نہیں آتا جس قدر کہ آنحضرت ﷺ نے کیا۔پس آپ کا انکسار سچا انکسار تھا کیونکہ باوجود لیاقت رکھنے کے آپ نے خدا کے جلال کا ایسا مطالعہ کیا کہ اپنی لیاقت کو بھلا دیا اور اللہ تعالیٰ کے نور کو اس طرح دیکھا کہ معلوم کر لیا کہ میری روشنی صلى الله در حقیقت اس نور کا سایہ ہے۔غرض آپ کے اس جواب سے کہ ”میں پڑھنا نہیں جانتا صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ سے انکسار میں کمال رکھتے تھے اور گوفرشتہ کا آپ کو بار بار چمٹا لینا