سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 289
سيرة النبي علي 289 جلد 1 بڑھ کر بھی انکسار کی کوئی اور مثال دنیا میں موجود ہے؟ موسی کی ایک مثال قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے لیکن آپ کے مقابلہ میں وہ بھی کچھ نہیں۔کیونکہ گو حضرت موسی نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا اور نبوت کے بوجھ اٹھانے سے انکار کیا لیکن اپنے بھائی کی طرف اشارہ کیا۔پس انہوں نے اپنی دانست میں ایک آدمی کو اس قابل خیال کیا کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا لے گا لیکن آنحضرت علی نے اپنی نسبت عجیب پیرایہ میں عذر کیا اور کسی کو پیش نہیں کیا جو آپ کے عظیم قرب پر دلالت کرتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ آپ حضرت موسی سے شان میں افضل تھے کہ آپ نے اس امانت کے اٹھانے کے لیے کسی انسان پر نظر نہیں کی بلکہ صرف اپنی کمزوری کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے انتخاب پر صاد کیا۔غرض آپ کا نبوت کے ملنے سے بھی پہلے یہ انکسار کا نمونہ دکھانا ثابت کرتا ہے کہ آپ کی طبیعت میں ہی انکسار داخل تھا۔اور نادان ہے وہ جو خیال کرے کہ آپ نے نبوت کے ساتھ اس رنگ کو اختیار کیا۔اس جگہ ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ انکسار جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے اس کا نام نہیں کہ کوئی آدمی اپنے آپ کو لائق سمجھتے ہوئے کہے کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا۔یہ تو جھوٹ ہے اور جھوٹ بھی اچھی صفت نہیں ہو سکتی۔انکسار درحقیقت ایثار کی ایک قسم ہے جو ایک تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ انکسار نام پاتی ہے اور منکسر المزاج نہ اس شخص کو کہیں گے جو نالائق ہو کر اپنی نالائقی کا اقرار کرے اور نہ اسے کہیں گے جو اپنے آپ کو لائق سمجھ کر اپنے نالائق ہونے کا اعلان کرے بلکہ منکسر المزاج وہ شخص ہے جو لائق اور صاحب فضیلت ہو کر دوسروں کی خوبیوں پر لیاقت اور فضیلت کے مطالعہ میں ایسا مشغول ہو کہ اپنی لیاقت اور فضیلت اس کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائے اور ہر موقع پر دوسروں کی لیاقت اور فضیلت اس کے سامنے آ جائے۔اور یہ صفت اس لیے اچھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں تو یہ ادب کا صحیح طریق ہے اور بندوں میں اس کے ذریعہ سے فسادمٹ جاتے ہیں کیونکہ