سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 282

سيرة النبي علي 282 جلد 1 میں اس امر کی اور بہت سی مثالیں پیش کرتا لیکن چونکہ میں نے اس کتاب میں صرف ان مثالوں سے آپ کی سیرت پر روشنی ڈالنے کا ارادہ کیا ہے جو بخاری میں پائی جاتی ہیں اس لیے اس وقت اسی مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔شروع سے ہی آپ کی طبیعت ایسی تھی۔آپ کی منکسرانہ طبیعت کے متعلق جو مثال میں نے دی ہے شاید اس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ گو امراء اس منکسرانہ طبیعت کے نہیں ہوتے لیکن چونکہ علاوہ بادشاہت کے آپ کو نبوت کا بھی دعوی تھا اور نبوت کے لیے ضروری ہے کہ انسان ہر قسم کے لوگوں سے تعلق رکھے اس لیے ممکن ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ تکلف سے ایسا کرتے ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ اعتراض درست ہے لیکن رسول کریم ﷺ پر نہیں پڑ سکتا۔اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تکلف کی بات ہمیشہ عارضی ہوتی ہے، تکلف سے انسان جو کام کرتا ہے اس پر سے کسی نہ کسی وقت پردہ اٹھ جاتا ہے لیکن جیسا کہ پہلی مثال سے ثابت ہے آنحضرت علی ہمیشہ ایک ہی بات پر قائم رہے اور ایک شخص جو دس سال رات دن برابر آپ کے ساتھ رہا گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ منکسرانہ معاملہ کرتے تھے تو اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔لیکن اس مثال کے علاوہ ایک اور مثال بھی بخاری سے معلوم ہوتی ہے جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ کی منکسرانہ طبیعت ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نتیجہ تھی جن پر آپ قائم تھے نہ کہ بناوٹ کا۔جیسا کہ آپ کے دشمن کہتے ہیں اور وہ ایک ایسے وقت کی بات ہے جبکہ آپ نے ابھی دعوی بھی نہ کیا تھا۔پس اُس وقت بھی آپ کا انتہاء درجہ کا منکسر المزاج ہونا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے تمام کام اُس دلی پاکیزگی کا نتیجہ تھے جس نے آپ کو کسی زمانہ میں بھی نہیں چھوڑا۔عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِءَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُوْ بِغَارِ حِرَاءٍ الله۔