سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 281
سيرة النبي علي صلى الله 281 جلد 1 آنحضرت ہے اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہا کرتے تھے۔ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کرنے کا عادی ہو وہ اس شہادت سے رسول کریم ﷺ کی منکسرانہ طبیعت کے کمال کو معلوم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں امراء کے لیے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے اور ممکن ہے کہ کبھی کبھار کوئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔پھر بچوں کو سلام میں ابتدا کرنا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کرنا بالکل محال ہے۔اور امراء کو بھی جانے دو کتنے بالغ و جوان انسان ہیں جو با وجود دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتدا کرنے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پاتے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کرتے ہیں۔شاید ایسا آدمی جو اس پر تعہد سے قائم ہو اور ہمیشہ اس پر عمل کرتا ہو ایک بھی نہ ملے گا۔لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت حضرت انس جیسے واقف کارصحابی جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہتے تھے۔اس شہادت میں آپ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے۔اول یہ صلى الله کہ آنحضرت عل انکسار کے اس اعلی درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپ کو عار نہ تھا۔دوم یہ کہ آپ ان کو سلام کہنے میں ابتدا کرتے تھے۔سوم یہ کہ ایک یا دو دفعہ کی بات نہیں آپ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔اب اس شہادت سے ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بچوں کے ساتھ اس انکسار کے ساتھ پیش آتا تھا وہ جوانوں کے ساتھ کس انکسار کے ساتھ معاملہ کرتا ہو گا اور اس کا نفس خودی اور تکبر سے کس حد تک پاک ہوگا۔