سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 245
سيرة النبي علي 245 جلد 1 میرے پاس اونٹ ہوتے (یعنی بہت کثرت سے ہوتے ) تو بھی میں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔اللہ اللہ ! یہ وہ شخص ہے جسے نا پاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں اور طرح طرح کے ناپاک الزام لگاتے ہیں۔یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے۔یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے ہیں۔کیا اس تحمل والا انسان ظالم یا مغلوب الغضب ہوسکتا ہے؟ کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہوسکتا ہے؟ عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطرناک دشمن کو شکست دے کر واپس آ رہا ہے۔ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھوٹا، زبر دست سے زبر دست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیں اور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدانِ جنگ سے واپس آ رہا ہے مگر کس شان سے؟ اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔کچھ عرب آ کر آپ سے سوال کرتے ہیں اور پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں کہ کچھ لیے بغیر نہیں کوٹیں گے آپ بار بار انکار کرتے ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔پھر اور پھر سوال کرتے ہیں اور باوجود آپ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیں ضرور کچھ دلوایا جائے مگر آپ باوجود اس شان کے کہ سارے عرب کو آپ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی اُن سے کیا سلوک کرتے ہیں؟ ان کے بار بار کے سوال سے ناراض نہیں ہوتے۔اُن پر خفگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اُن کو بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ورنہ ضرور ان کو بھی دیتے۔لیکن وہ لوگ پھر بھی مُصر ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ گل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوں کو اس کے پاس جس زور سے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہوگا۔پھر کیا اس لیے نہیں کہ آپ کے اخلاق حسنہ اور آپ کے حسنِ