سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 244
سيرة النبي علي 244 جلد 1 آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔اللہ اللہ ! کیسا پاک جواب ہے۔کیسا مسئلت اور مسکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیادار سوائے اس کے کہ زندہ ہی مرجائے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔یہ تھا آپ کا تحمل، یہ تھی آپ کی بردباری جو آپ کو دنیا کے تمام انسانوں سے افضل ثابت کرتی ہے۔بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کوسن کر خاموشی سے اپنے حلم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا مخمل بھی لغو نہ تھا۔اگر آپ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا۔آپ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا اور ایسا نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لیے ہدایت تھا۔کاش! اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر اعتراضات سے نہیں رکھتے کیونکہ ان کو یا درکھنا چاہیے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔اس سے پہلے میں آنحضرت ﷺ کے تحمل کی ایک مثال درج کر چکا ہوں۔اب ایک اور مثال درج کرتا ہوں۔جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اِضْطَرُّوْهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطِفَتْ رَدَاءَهُ فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطُوْنِيْ رِدَائِي فَلَوُ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ نَعَمَّا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجدُونَنِيْ بَخِيْلًا وَلَا كَذُوْبًا وَلَا جَبَانًا 95 ایک دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور بھی لوگ تھے۔آپ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے اتنے میں راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آگئے اور آپ کے پیچھے پڑ گئے اور آپ سے سوال کرنے لگے۔اور آپ پر اس قدر زور ڈالا کہ ہٹاتے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے جس سے آپ کی چادر پھنس گئی۔پس آپ ٹھہر گئے اور فرمایا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی