سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 240
سيرة النبي علي 240 جلد 1 لے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتے ہوں لیکن یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ رات کے وقت ایک شخص خاص طور پر اپنی بیٹی اور داماد کے پاس جائے اور ان سے دریافت کرے کہ کیا وہ اس عبادت کو بھی بجا لاتے ہیں جو اس نے فرض نہیں کی بلکہ اس کا ادا کرنا مؤمنوں کے اپنے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور جو آدھی رات کے وقت اٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔اُس وقت آپ کا جانا اور اپنی بیٹی اور داماد کو ترغیب دینا کہ وہ تہجد بھی ادا کیا کریں اس کامل یقین پر دلالت کرتا ہے جو آپ کو اس تعلیم پر تھا جس پر آپ لوگوں کو چلا نا چاہتے تھے ورنہ ایک مفتری انسان جو جانتا ہو کہ ایک تعلیم پر چلنا نہ چلنا ایک سا ہے اپنی اولا د کو ایسے پوشیدہ وقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے کی نصیحت نہیں کر سکتا۔یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک آدمی کے دل میں یقین ہو کہ اس تعلیم پر چلے بغیر کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔تیسری بات وہی ہے جس کے ثابت کرنے کے لیے میں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت علی ہر ایک بات کے سمجھانے کے لیے تحمل سے کام لیا کرتے تھے اور بجائے لڑنے کے محبت اور پیار سے کسی کو اس کی غلطی پر آگاہ فرماتے تھے۔چنانچہ اس موقع پر جب حضرت علیؓ نے آپ کے سوال کو اس طرح رد کرنا چاہا کہ جب ہم سو جائیں تو ہمارا کیا اختیار ہے کہ ہم جاگیں کیونکہ سویا ہوا انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا۔جب وہ سو گیا تو اب اسے کیا خبر ہے کہ فلاں وقت آ گیا ہے اب میں فلاں کام کر لوں اللہ تعالی آنکھ کھول دے تو نماز ادا کر لیتے ہیں ورنہ مجبوری ہوتی ہے ( کیونکہ اُس وقت الارم کی گھڑیاں نہ تھیں ) اس بات کو سن کر آنحضرت ﷺ کو تو حیرت ہوئی ہی تھی کیونکہ آپ کے دل میں جو ایمان تھا وہ کبھی آپ کو ایسا غافل نہ ہونے دیتا تھا کہ تہجد کا وقت گزر جائے اور آپ کو خبر نہ ہو اس لیے آپ نے دوسری طرف منہ کر کے صرف یہ کہہ دیا کہ انسان بات مانتا نہیں جھگڑتا ہے۔یعنی تم کو آئندہ کے لیے کوشش کرنی چاہیے تھی کہ وقت ضائع نہ ہو، نہ کہ اس طرح ٹالنا چاہیے تھا۔چنانچہ