سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 210

سيرة النبي علي 210 جلد 1 ثَلَاثَ لَيَالِ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ 84 یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے اُس وقت سے کہ آپ مدینہ تشریف لائے اُس وقت تک کہ آپ فوت ہو گئے تین دن متواتر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ان تینوں حدیثوں کو ملا کر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سادگی سے زندگی بسر کی اور باوجود اس محنت اور مشقت کے جو آپ کو کرنی پڑتی تھی آپ اپنے کھانے پینے میں اسراف نہ فرماتے تھے اور اُسی قدر کھاتے جو زندگی کے بحال رکھنے کے لیے ضروری ہو اور آپ کا کھانا عبادت اور قوت کے قائم رکھنے کے لیے تھا نہ کہ آپ کی زندگی دنیا کے بادشاہوں کی طرح کھانوں کی خواہش میں گزرتی تھی۔آپ ہی اس مصرعہ کے پورا کرنے والے تھے خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ آپ کا کھانا بھی نہایت سادہ ہوتا تھا اور جو کچھ کھاتے تھے اس میں بھی بہت تکلفات سے کام نہ لیتے تھے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ مَا عَلِمُتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكْرجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبزَ لَهُ مُرَفَّقٌ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَان قَطُّ قِيْلَ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ مَا كَانُوْا يَأْكُلُوْنَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ 85 مجھے نہیں معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی تشتریوں میں کھایا ہو اور نہ آپ کے لیے کبھی چپاتیاں پکائی گئیں اور نہ کبھی آپ نے تخت پر کھایا۔قادہ سے (جنہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے ) سوال کیا گیا کہ پھر وہ کس پر کھایا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ دستر خوان پر۔حضرت انسؓ کی روایت اس لحاظ سے قریباً اہل بیت کے برابر سمجھی جانے کے قابل ہے کہ آپ ابھی بچہ تھے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت کے لیے پیش کیا تھا اور یہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ