سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 5
سيرة النبي علي 5 سچا عبد وو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے دسمبر 1906ء کے جلسہ سالا نہ میں جو تقریر فرمائی اور جو بعد میں چشمہ تو حید کے نام سے شائع ہوئی اس میں آپ نے رسول کریم ہے کو سچا عبد قرار دیتے ہوئے فرمایا :۔آنحضرت لے بھی اسی خدا کے پیدا کئے ہوئے تھے اور ابوجہل بھی۔مگر ابو جہل نے اپنی شرارت، فسق و فجور اور شرک سے اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت نہ کیا بلکہ بتوں کا بندہ ثابت کیا اور انہی کی طرف داری میں اپنی جان تک قربان کی۔مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ کو خالص خدا کے لئے ہی کر دیا، شرک سے بکلی پر ہیز کیا اور اپنی عبادت اور قربانیاں سب خدا کے لئے ہی مخصوص رکھیں اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت کیا۔پس خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ اُس کا انجام کیا ہوا اور اس کا کیا ؟ ابو جہل تو بدر کے میدان میں قتل کیا گیا اور ایک کنویں میں اس کی لاش پھینکی گئی اور اس کے مرتے وقت کی خواہش بھی پوری نہ ہوئی یعنی اس نے کہا تھا کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹنا کیونکہ عرب کے معززین کی نشانی یہی ہوتی تھی۔مگر کاٹنے والے نے اس کی گردن سر کے پاس سے کاٹ کر ثابت کیا کہ شیطان کے دوست کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔اور اُسی وقت دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو وہ فتح نصیب ہوئی کہ وہ خدا تعالیٰ کی جنت کے وارث نہ صرف عقبی میں بلکہ اس دنیا میں بھی ثابت ہوئے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَادْخُلِی جَنَّتِی 1۔پس وہ انسان جو خدا تعالیٰ سے کامل تعلق کرنا چاہے وہ شرک کو چھوڑ دے۔کیونکہ خدا کو شرک پسند جلد 1