سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 165

سيرة النبي علي 165 جلد 1 آگے سے بھی گمراہ ہوتے جاتے ہیں مگر میرا پیارا ہادی تو ساری دنیا کے لیے ہادی ہو کر آیا تھا وہ کسی خاص طرز یا مذاق کے لوگوں کا رہبر نہ تھا۔ہر ملک اور قوم کے آدمی اس کی غلامی میں آئے تھے۔اس نے اپنے اخلاق کا ایک ایسا بے لوث اور مکمل نمونہ دکھایا ہے کہ کوئی آدمی اس کی غلامی میں آئے ناکام و نامراد نہیں رہتا بلکہ اپنے کامل دلی مقصد اور مدعا کو پالیتا ہے۔در حقیقت تعصب کو ایک طرف رکھ کر اگر دیکھا جائے تو آپ کی یہ صفت ایک ایسی حکیمانہ صفت تھی کہ اس پر جس قدر غور کیا جائے اس کے فوائد زیادہ سے زیادہ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ایک ہی نسخہ ہوتا ہے جسے طبیب بھی بتاتا ہے اور ایک بڑھیا بھی بتاتی ہے لیکن وہ طبیب تو حکمت کی بنا پر اسے تجویز کرتا ہے اور بڑھیا صرف اس وجہ سے کہ اسے یا اس کے کسی رشتہ دار کو کبھی اس سے فائدہ پہنچا تھا۔یہی فرق روحانیت کے مدارج میں بھی ہوتا ہے۔بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرتے ہیں مگر ان کے افعال کی بنا جہالت پر ہوتی ہے اور وہ حکمت سے کام نہیں لیتے۔مگر رسول کریم ﷺ کے تمام کاموں کی بنا علم پر تھی۔آپ خوب جانتے تھے کہ کسی چیز سے اپنی طاقت سے زیادہ کام لینے کے یہ معنے ہیں کہ اسے ہمیشہ کے لیے کام سے معطل کر دیا جائے۔اس لیے آپ اپنے قومی کو برمحل اور برموقع استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ سب مقابلہ کرنے والوں سے آگے نکل گئے اور کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوا جو آپ سے آگے نکلنا تو کجا آپ کی برابری بھی کر سکے۔اللَّهُم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيْدٌ - ”وقار “ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں عالی حوصلگی، طہارت النفس۔وقار حلم اور بڑائی۔چونکہ لوگ عام طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے معانی سے نا واقف ہوتے ہیں اس لیے میں نے سمجھا کہ اس کے معنی کر دوں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ جب میں وقار “ لفظ