سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 164

سيرة النبي علي 164 جلد 1 کرنے میں چست رہتے اور ایسے جوش کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے کہ جوان جوان صحابہؓ آپ کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔جیسا کہ میں باتفصیل آپ کی عبادت کے ذکر میں لکھ آیا ہوں لیکن باوجود اس کے آپ آسان راہ کو قبول کرتے اور اپنے نفس کو بے فائدہ دیکھ نہ دیتے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اُس وقت تک عبادت کرو جب تک دل ملول نہ ہو جائے۔حضرت عائشہ آپ کے اعمال کی نسبت فرماتی ہیں مَا خُيّرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ 65 رسول اللہ ﷺ کو کسی دو باتوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپ نے اسے قبول کیا جو دونوں میں سے آسان تر تھی بشرطیکہ گناہ نہ ہو۔اور اگر کسی کام میں گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ آپ اس سے بچتے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ آسان راہ کو اختیار کیا کرتے تھے اور تکلیف میں اپنے آپ کو نہ ڈالتے۔ایک خیال جو اس حدیث سے پیدا ہوسکتا تھا کہ گویا آپ خدا کے راستہ میں مشقت نہ برداشت کر سکتے تھے (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ڈلک) اس کا رڈ بھی خود حضرت عائشہؓ نے فرما دیا کہ یہ بات اُسی وقت تک تھی کہ جہاں دین کا معاملہ نہ ہو۔اگر کسی موقع پر آسانی اختیار کرنا دین میں نقص پیدا کرتا ہو تو پھر آپ سے زیادہ اس آسانی کا دشمن کوئی نہ ہوتا۔یہ وہ کمال ہے جس سے آپ کی ذات تمام انبیاء پر فضیلت رکھتی ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے لیکن آپ ہر رنگ میں کامل تھے۔کوئی پہلو بھی تو انسانی زندگی کا ایسا نہیں جس میں آپ دوسروں سے پیچھے ہوں یا ان کے برابر ہوں۔ہر بات میں کمال ہے اور دوسروں سے بڑھ کر قدم مارا ہے اور ہر خوبی کو اپنی ذات میں جمع کر لیا ہے۔بے شک بہت سے لوگ ہیں کہ جو اپنی جان کو آرام میں رکھتے ہیں مگر خدا کو ناراض کرتے ہیں، لوگوں کو نا خوش کرتے ہیں۔بعض خدا کو راضی کرنے کی کوشش میں اپنے نفس کو ایسے مصائب میں ڈالتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب بھی نصیب نہیں ہوتا اور