سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 163
سيرة النبي علي 163 جلد 1 میں ڈالتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔غرض کہ جس طرح بغیر محنت و کوشش کے خدا تعالیٰ نہیں ملتا اسی طرح اپنے نفس کو بلا فائدہ مشقت میں ڈالنے سے بھی خدا نہیں ملتا بلکہ الٹا نقصان پہنچ جاتا ہے۔میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اول اول تو شوق سے سخت سے سخت محنت اٹھا کر بعض عبادات کو بجا لانا شروع کیا اور اپنے نفس پر وہ بوجھ رکھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا اور آخر تھک کر ایسے چور ہوئے کہ عبادت تو کجا خدا تعالیٰ کی ہستی سے ہی منکر ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو ہماری ان محنتوں کو ضائع کیوں کرتا۔ہم تو اس کوشش و محنت سے ورد وظائف کرتے رہے لیکن وہاں سے ہمیں کچھ اجر بھی نہیں ملا اور آسمان کے دروازے چھوڑ آسمان کی کوئی کھڑ کی بھی ہمارے لیے نہیں کھلی۔اور جب یہ شکوک ان کے دلوں میں پیدا ہونے شروع ہوئے تو وہ گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وعظ و پند کو بناوٹ سمجھ لیا اور خیال کر لیا کہ ہم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ہماری ہی طرح تھے اور نَعُوذُ بِاللهِ ان کے دل ہماری طرح ہی تاریک تھے اور لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔ان واقعات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بے فائدہ مشقت بھی خطرناک ہوتی ہے اور نفس کو ایسے ابتلاؤں میں ڈالنا کہ جو غیر ضروری ہیں بجائے فائدہ کے مہلک ثابت ہوتا صلى الله ہے۔اسی لیے آنحضرت ﷺ جو تمام دنیا کے لیے رحمت ہو کر آئے تھے اپنے صحابہ کور و کتے تھے کہ وہ اپنے نفوس کو حد سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک صحابی ایک دوست کے ہاں گئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ سارا دن روزہ رکھتا اور رات کو تہجد میں وقت گزارتا ہے۔اس پر انہوں نے انہیں ڈانٹا جس پر یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا۔آپ نے فرمایا اُس نے ٹھیک ڈانٹا کیونکہ انسان پر بہت سے حقوق ہیں ان کا پورا کرنا اس کے لیے ضروری ہے 64۔خود آنحضرت ﷺ کا عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ احکام الہی کے پورا