سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 154
سيرة النبي علي 154 جلد 1 ہے کہ یہ فقرہ کس شخص کی شان میں کہا گیا ہے۔معمولی حیثیت کے آدمی کی نسبت اور معمولی واقعات کی بناء پر اگر اس قسم کی گواہی کسی کی نسبت دے بھی دی جائے تو گو اس کے اخلاق اعلیٰ سمجھے بھی جائیں مگر اس شہادت کو وہ اہمیت نہیں دی جاسکتی جو اس شہادت کو ہے اور وہ شہادت ایک معمولی انسان کے اخلاق کو ایسا روشن کر کے نہیں دکھاتی جیسی کہ یہ شہادت رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو۔کیونکہ یہ اخلاق جن واقعات کی موجودگی میں دکھائے گئے ہیں وہ کسی اور انسان پر پیش نہیں آتے۔دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ایک وہ جو سر میں نہایت بدخلق ہو جاتے ہیں دوسرے وہ جو ئیسر میں چڑ چڑے بن جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ پر یہ دونوں حالتیں اپنے کمال کے ساتھ وارد ہوئی ہیں اور دونوں حالتوں میں آپ کے اخلاق کا اعلیٰ رہنا ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔جو تکلیفیں اور دکھ آپ کو پہنچے ہیں وہ اور کونسا انسان ہے جسے پہنچے ہوں۔مکہ کی تیرہ سالہ زندگی کے حالات سے کون نہیں واقف، مدینہ کے ابتدائی ایام سے کون بے خبر ہے، کن شدائد کا آپ کو سامنا ہوا ، کن مشکلات سے پالا پڑا۔دوست دشمن ناراض تھے ، رشتہ دار جواب دے بیٹھے، اپنے غیروں کی نسبت زیادہ خون کے پیاسے ہو رہے تھے، ملنا جلنا قطعاً بند تھا، ایک وادی میں تین سال محصور رہنا پڑا، نہ کھانے کو نہ پینے کو، جنگل کے درخت اور وٹیاں غذا بنیں، شہر میں آنا منع ہو گیا، پھر چمکتی ہوئی تلوار میں ہر وقت سامنے نظر آتی تھیں، رؤساء سے قیام امن کی امید ہوتی ہے وہ بھی مخالف ہو گئے ، بلکہ نو جوانوں کو اور اُکسا اُکسا کر دکھ دینے پر مائل کرتے رہے۔باہر نکلتے ہیں تو گالی گلوچ تو کچھ چیز ہی نہیں پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے، اپنے رب کے حضور گرتے ہیں تو اونٹ کی اوجھڑی سر پر رکھ دی جاتی ہے، حتی کہ وطن چھوڑ دیتے ہیں، پھر وطن بھی وہ وطن جس میں ہزاروں سال سے قیام تھا، اپنے جد امجد کے ہاتھوں سے بسایا ہوا شہر جس کو دنیا کے ہزاروں لالچوں کے باوجود آباؤ اجداد نے نہ چھوڑا تھا، ایک شریروں اور بدمعاشوں کی جماعت