سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 153
سيرة النبي علي 153 جلد 1 کرتے۔آپ بد کلامی سے بچتے تب دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لیے حکم دیتے۔اور یہی وہ کمال ہے کہ جس کے حاصل ہونے کے بعد انسان کامل ہوسکتا ہے اور اس کی زبان میں اثر پیدا ہوتا ہے۔اب لوگ چلا چلا کر مر جاتے ہیں کوئی سنتا ہی نہیں۔نہ ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے نہ کوشش میں برکت۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود عامل نہیں ہوتے ، لوگوں کو کہتے ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ خود عامل ہو کر لوگوں کو تبلیغ کرتے جس کی وجہ سے آپ کے کلام میں وہ تاخیر تھی کہ 23 سال میں لاکھوں آدمیوں کو اپنے رنگ میں رنگین کر لیا۔عبد اللہ بن عمرو کے اس قول اور شہادت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اول تو وہ ہر وقت رسول کریم ﷺ کی صحبت میں رہتے تھے اور جو اکثر اوقات ساتھ رہے اسے بہت سے مواقع ایسے مل سکتے ہیں کہ جن میں وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس شخص کے اخلاق کیسے ہیں۔کبھی کبھی ملنے والا تو بہت سی باتیں نظر انداز بھی کر جاتا ہے بلکہ کسی بات پر بھی یقینی شہادت نہیں دے سکتا لیکن جنہیں ہر وقت کی صحبت میسر ہو اور ہر مجلس میں شریک ہوں وہ خوب اچھی طرح اخلاق کا اندازہ کر سکتے ہیں۔پس عبد اللہ بن عمرو اُن صحابہ میں سے تھے جنہیں رسول کریم ﷺ کے ساتھ رہنے کا خاص موقع ملتا تھا اور جو آپ کے کلام کے سننے کے نہایت شائق تھے اُن کا ایسی گواہی دینا ثابت کرتا ہے کہ در حقیقت آپ کوئی ایسی شان رکھتے تھے کہ عسر وئیر میں اپنے اخلاق کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے تھے۔ورنہ کبھی تو آپ کے ہر وقت کے ہم صحبتوں کو ایسا موقع بھی پیش آتا کہ جس میں آپ کو کسی وجہ سے چیں بہ جبیں دیکھتے لیکن ایسے موقع کا نہ ملنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ اور ارفع تھے اور کوئی انسان ان میں نقص نہیں بتا سکتا تھا۔ایک طرف اگر عبد اللہ بن عمرو کی گواہی جو اعلی پایہ کے صحابہ میں سے تھے نہایت معتبر اور وزنی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی خاص طور سے مطالعہ کرنے کے قابل