سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 143
سيرة النبي علي 143 جلد 1 غرضیکہ ہر جگہ آپ کو خدا ہی خدا یاد تھا اور اسی کا ذکر آپ کی زبان پر جاری تھا اور اب جبکہ وفات کا وقت آیا تب بھی بجائے کسی اور دنیاوی غرض یا مطلب کی طرف متوجہ ہونے کے خدا ہی کی یاد آپ کے سینہ میں تھی اور جن کو چھوڑ چلے تھے ان کی فرقت کے صدمہ کی بجائے جن سے ملنا تھا ان کی ملاقات کی تڑپ تھی اور زبان پر اپنے رب کا نام جاری تھا۔آہ! کیسا مبارک وہ وجود تھا۔کیا احسان ماننے والا وہ انسان تھا۔اس کی زندگی بہتر سے بہتر انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور مہذب سے مہذب روحوں کے لیے ایک نمونہ تھی۔اس نے اپنے پیدا ہونے سے مرنے تک کوئی وقت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں گزارا۔وہ پاک وجود خدا تعالیٰ میں بالکل محو ہی ہو گیا تھا اور اس کی نظر میں سوائے اُس وحدہ لا شریک خدا کے جو لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُ ہے اور کوئی وجود جچتا ہی نہ تھا۔پھر بھلا جو ذکر کہ تمام عمر اس کی زبان پر رہا وفات کے وقت وہ اسے کہاں بھلا سکتا تھا۔جو کچھ انسان ساری عمر کہتا یا کرتا رہا ہو وہی اسے وفات کے وقت بھی یاد آتا ہے۔پھر جس کی عمر کا مشغلہ ہی یاد الہی ہو اور زندگی بھر جس کی روحانی غذا ہی ذکر الہی ہو وہ وفات کے وقت اور کسی چیز کو کب یاد کر سکتا تھا۔مجھے میرا مولا پیارا ہے اور مجھے محمد رسول اللہ ﷺ بھی پیارا ہے کیونکہ وہ میرے مولا کا سب سے بڑا عاشق اور دلدادہ ہے اور جسے جس قدر میرے رب سے زیادہ الفت ہے مجھے بھی وہ اسی قدر عزیز ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ذکر الہی ہر وقت میں نے پیچھے بعض واقعات سے یہ ثابت کیا ہے کہ الله رسول کریم ﷺ کو ذکر الہی سے کیسی محبت تھی اور آپ کس طرح ہر موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینا پسند فرماتے تھے اور صرف خود ہی پسند نہ