سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 138

سيرة النبي عالي 138 جلد 1 آتش شوق تیز تر ہوتی اور آپ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپنا ممنونِ احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہوتے کہ الہی ! اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔آپ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہے۔کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گزارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی توفیق دی ، اس احسان کا شکر بجا لانا ضروری ہے۔اس جذ بہ ادا ئیگی شکر سے بے اختیار ہو کر کچھ اور عبادت کرتے اور پھر اسے بھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجالانا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو۔پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی اور پھر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جاتے اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا کہ بارہا عبادت کرتے کرتے آپ کے پاؤں سوج جاتے۔صحابہ عرض کرتے یا رسول اللہ ! اس قدر عبادت کی آپ کو کیا حاجت ہے؟ آپ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں۔اس کا جواب آپ یہی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ اَوْ لَيْصَلِّيَ حَتَّى تَرمَ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُوْلُ أَفَلَا أَكُوْنُ عَبْدًا شَكُورً ا 50 رسول کریم ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے ہتے کہ آپ کے قدم (یا کہا ) پنڈلیاں سوج جاتیں۔لوگ آپ سے جب کہتے ( کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ) تو آپ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اللہ اللہ ! کیا عشق ہے، کیا محبت ہے، کیا پیار ہے، خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔خون کا دوران نیچے کی طرف شروع ہو جاتا ہے اور آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے ہیں لیکن محبت اس طرف خیال ہی نہیں جانے دیتی۔آس پاس کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کرتے کیا ہیں اور آپ کے درد سے تکلیف محسوس کر کے آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ یہ کیا