سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 111

سيرة النبي علي 111 جلد 1 انعام ملے گا۔عرب کے قبائل جن کی زندگی ہی لوٹ مار پر بسر ہوتی تھی اور جو آتش حسد سے پہلے ہی جل بھن کر کوئلہ ہو رہے تھے اس موقع کو کب ہاتھ سے جانے دے سکتے تھے ہر طرف آپ کی تلاش شروع ہوئی اور گویا ہر قدم پر جو آپ اٹھاتے خوف تھا کہ کسی خون کے پیاسے دشمن سے پالا پڑے گا۔ایسے موقع پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان بھی دل ہار بیٹھتا ہے اور آخری جدو جہد سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔اور اگر نہایت دلیر اور خلاف معمول کوئی نہایت قوی دل انسان بھی ہو تو اُس پر بھی خوف ایسا مستولی ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر ایک حرکت سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔میں نے بڑے بڑے بہادروں کے واقعات پڑھے ہیں لیکن ایسے موقع پر اُن کی جو حالت ہوتی ہے اس کا رسول کریم ﷺ کے واقعہ سے مقابلہ بھی کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔تاریخ دان جانتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے نپولین کا کیا حال تھا اور اس کے چہرہ پر حسرت کے کیسے بین آثار پائے جاتے تھے۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمایوں کس طرح بار بار اپنے آپ کو دشمن کے ہاتھوں میں سپر د کر دینے کے لیے تیار ہو جاتا تھا اور اگر اُس کے ساتھ چند نہایت وفادار جرنیل نہ ہوتے تو وہ شاید ایسا کر بھی دیتا۔اسی طرح اور بہت سے بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں جن پر مشکلات کے ایام آئے ہیں اور وہ ایسے اوقات میں جب دشمن اُن کے چاروں طرف اُن کی جستجو میں پھیل گیا گھبرا گئے ہیں لیکن رسول کریم ہے ان دنیا وی لوگوں میں سے نہ تھے۔آپ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔دنیا کے اسباب آپ کے مدنظر نہ تھے اور آپ یہ خیال نہ کرتے تھے کہ ایسے وقت میں میں تن تنہا صرف ایک ساتھی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں اور ایسے خطرناک راستہ میں اگر دشمن آ جائے تو اس کے مقابلہ کے لیے میرے پاس کیا سامان ہیں بلکہ آپ یہ دیکھ رہے تھے کہ میرے ساتھ وہ خدا ہے جو ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کا محافظ چلا آیا ہے اور جس کے وار کا کوئی دشمن مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ خدا جو نوح کا خدا، ابراہیم کا خدا، صلى الله