سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 110
سيرة النبي علي 110 جلد 1 ہوں آپ اس وقت کسی بڑے کام کے لیے آئے ہوں گے۔عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر گھر میں آئے اور فرمایا کہ جولوگ بیٹھے ہیں اُن کو اٹھا دو۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے قسم ہے کہ وہ آپ کے رشتہ دار ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بھی ساتھ ہی جانے کی اجازت دیجیے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اُس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک حکم نہ ہوا اور آخر وقت تک اس بات پر قائم رہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا۔کیسا ایمان کیسا یقین ، کیسا پاک تعلق ہے فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ - اخلاص باللہ۔تو کل علی اللہ واقعہ ہجرت بھی ایک عجیب ہولناک واقعہ ہے۔سارا عرب صلى الله واقعہ ہجرت مخالف اور خون کا پیاسا تھا مگر رسول کریم ﷺہ صرف ایک ساتھی لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔راستہ میں تمام وہ قومیں آباد تھیں جو مذہب کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو مارنے کی فکر میں رہتی تھیں اور صرف قریش کے ڈر کے مارے خاموش تھیں لیکن اب وہ وقت آ گیا تھا جب قریش خود آپ کے قتل کے درپے تھے اور کل قبائل عرب کو تسلی تھی کہ اگر ہم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو قریش کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہ ہوگی اور صرف یہی نہیں کہ قریش کی مخالفت کا خوف نہ رہا تھا بلکہ قریش نے رسول کریم ﷺ کو مکہ سے غیر حاضر دیکھ کر آپ کے قتل پر انعام مقرر کر دیا تھا اور مدینہ کے راستہ میں جس قدر قبائل آباد تھے انہیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ جو شخص الله رسول کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر کو زندہ یا مردہ لے آئے گا اُسے سوسو اونٹ فی کس