سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 106
سيرة النبي علي 106 جلد 1 یا دشمن سے برداشت نہ کر سکتے تھے اور فوراً اس کا ازالہ کرنا چاہتے۔ادھر تو طبیعت کی نرمی کا یہ حال تھا کہ گالیوں پر گالیاں ملتی ہیں اور تکلیفیں دی جاتی ہیں مگر آپ پر واہ بھی نہیں کرتے اور اُدھر خدا کے معاملہ میں غیرت کا یہ حال تھا کہ جب ابوسفیان آپ کی ہتک کرتا رہا تو کچھ پرواہ نہ کی۔مگر جب شرک کے کلمات منہ پر لایا تو فرمایا اسے جواب دو۔یہ تو دشمن کا حال تھا۔دوستوں کے معاملہ میں بھی ایسے ہی سخت تھے۔منافق جنگ سے پیچھے رہ گئے تو کچھ پرواہ نہ کی۔ایک مومن نے جو اس حکم الہی کے بجالانے میں سستی کی تو آپ نے کس قدر غیرت سے کام لیا اور باوجود اس کے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان ایام ناراضگی میں بھی کعب بن مالک کو کنکھیوں سے دیکھتے رہتے۔اخلاص باللہ۔قیام حدود آنحضرت ﷺ کی غیرت دینی جس وضاحت سے مذکورہ بالا واقعات سے ثابت ہوتی ہے اس پر کچھ اور زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔اب میں آپ کے ایک اور خلق پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا معاملہ خدا تعالیٰ سے کیسا پاک تھا اور کس طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال رہتا تھا۔انسان فطرتا کسی کی مصیبت کو دیکھ کر رحم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔بہت سے لوگ جب کسی مجرم کو سزا ملتی دیکھتے ہیں تو باوجود اس علم کے کہ اُس سے سخت جرائم سرزد ہوئے ہیں اُن کے دل کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب اس شخص سے جرم تو ہو ہی گیا ہے اور یہ تائب بھی ہے اسے چھوڑ دیا جائے تو اچھا ہے۔لیکن یہ ایک کمزوری ہے اور اگر اس جذبہ سے متاثر ہو کر مجرموں کو چھوڑ دیا جائے تو گناہ اور جرائم بہت ہی بڑھ جائیں۔فطری رحم کے علاوہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم ہو تو لوگ عام طور پر نہیں پسند کرتے کہ اسے سزا ملے اور اس کی بڑائی سے متاثر ہو کر چاہتے ہیں کہ اسے کسی طرح