سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 105
سيرة النبي علي 105 جلد 1 ہوئے میرے پاس آئے اور قبلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا ( حمزہ بن عمر و اسلمی ) اور پہاڑ پر کی آواز گھوڑے سے جلد مجھ کو پہنچ گئی۔خیر جب یہ خوشخبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر) کیا کیا۔دو کپڑے جو میرے پاس تھے وہ اتار کر اُس کو پہنا دیئے اُس وقت کپڑوں کی قسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے اور میں نے (ابو قتادہ سے ) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور آنحضرت ﷺ کے پاس چلا۔رستے میں فوج در فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے تھے اور مجھ کو مبارکباد دیتے جاتے تھے اور کہتے تھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو۔کعب کہتے ہیں جب میں مسجد میں پہنچا دیکھا تو آنحضرت علیے بیٹھے ہیں ، لوگ آپ کے گرد ہیں۔طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا۔مبارکباد دی۔خدا کی قسم ! مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارکباد نہیں دی۔میں طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ احسان کبھی بھولنے والا نہیں۔کعب کہتے ہیں جب میں نے آنحضرت ﷺ کو سلام کیا میں نے دیکھا آپ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا۔آپ نے فرمایا کعب! وہ دن تجھ کو مبارک ہو جو اُن سب دنوں سے بہتر ہے جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ معافی اللہ کی طرف سے ہوئی یا آپ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا نہیں اللہ کی طرف سے ہوئی (اس نے خود معافی کا حکم اتارا ) آنحضرت ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ کا علوم چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جا تا ہم لوگ اس کو پہچان لیتے۔اس واقعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی فطرت کیسی پاک اور مطہر تھی اور کس طرح آپ ہر رنگ میں کامل ہی کامل تھے۔بے شک بعض آدمی ہوتے ہیں جو غیرت دینی رکھتے ہیں مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض تو دشمنوں کے مقابلہ میں اظہارِ غیرت کر دیتے ہیں مگر دوستوں کے معاملہ میں اظہار غیرت نہیں کر سکتے۔اور بعض دوستوں پر اظہار غیرت کر دیتے ہیں مگر دشمنوں کے سامنے دب جاتے ہیں۔مگر رسول کریمی ایسے کامل انسان تھے کہ خواہ دین کی ہتک یا احکام الہیہ سے بے پروا ہی دوست سے ہو