سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 100

سيرة النبي علي 100 جلد 1 رہے گا اور موسم کا یہ حال تھا کہ میوہ پک چکا تھا اور سایہ بھلا معلوم ہوتا تھا۔غرض کہ رسول کریم ﷺ نے اور مسلمانوں نے جنگ کی تیاری شروع کی اور میں بھی ہر صبح جنگ کی تیاری کے مکمل کرنے کے لیے نکلتا تا میں بھی ان کے ساتھ تیار ہو جاؤں مگر صلى پھر کوٹ آتا اور کچھ کام نہ کرتا۔اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت سے سامان سفر تیار کر لیا یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ اور مسلمان ایک صبح روانہ بھی ہو گئے اور ابھی میں نہ تیار تھا۔پھر میں نے کہا کہ اب میں ایک دو دن میں تیاری کر کے آپ سے جا ملوں گا۔ان کے جانے کے بعد دوسرے دن بھی میں گیا مگر بغیر تیاری کے واپس آ گیا اور اسی طرح تیسرے دن بھی میرا یہی حال رہا اور اُدھر لشکر جلدی جلدی آگے نکل گیا۔میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ جاؤں اور اُن سے مل جاؤں اور کاش میں صلى ایسا ہی کرتا مگر مجھ سے ایسا نہ ہو سکا۔پھر جب رسول کریم ﷺ کے جانے کے بعد میں باہر نکلتا اور لوگوں میں پھرتا تو مجھے یہ بات دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے یا تو وہ تھے جو منافق سمجھے جاتے تھے یا وہ ضعفاء جن کو خدا نے معذور رکھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک مجھے یاد نہیں کیا جب تک کہ تبوک نہ پہنچ گئے۔وہاں آپ نے پوچھا کہ کعب بن مالک کہاں ہے؟ بنی سلمہ کے ایک آدمی (عبد اللہ بن انیس) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ اپنے حسن و جمال ( یا لباس کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا (آپ کے ساتھ نہیں آیا ) یہ سن کر معاذ بن جبل نے کہا تو نے بری بات کہی۔خدا کی قسم یا رسول اللہ ! ہم تو اس کو اچھا آدمی (سچا مسلمان ) سمجھتے ہیں۔آنحضرت ﷺ خاموش ہو رہے۔کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب یہ خبر آئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے کوٹے آ رہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا۔جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے ( یہ عذر کروں ، وہ عذر کروں) مجھ کو یہ فکر ہوئی کعب ! اب کل آپ کے غصے سے تو کیونکر بچے گا؟ میں نے اپنے عزیزوں میں سے جو جو عقل والے تھے اُن سے بھی مشورہ لیا۔جب یہ خبر آئی کہ آپ مدینہ کے قریب آن پہنچے اُس وقت سارے جھوٹے