سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 93
سيرة النبي علي 93 جلد 1 کیا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا انہیں کہو کہ خدا ہمارا دوست و کارساز ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں۔الله اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے معاملہ میں کیسے باغیرت تھے۔ابوسفیان اپنی جھوٹی فتح کے نشہ میں مخمور ہو کر زور سے پکارتا ہے کہ کیا آپ زندہ ہیں؟ لیکن آپ اپنی جماعت کو منع فرماتے ہیں کہ تم ان باتوں کا جواب ہی نہ دو اور خاموش رہو۔ایک عام آدمی جو اپنے نفس پر ایسا قابو نہ رکھتا ہو ایسے موقع پر بولنے سے کبھی باز نہیں رہ سکتا اور لاکھ میں سے ایک آدمی بھی شاید مشکل سے ملے جو اپنے دشمن کی جھوٹی خوشی پر اس کی خوشی کو غارت کرنا پسند نہ کرے۔لیکن چونکہ ابو سفیان اس دعوئی سے رسول کریم ﷺ کی ذات کی ہتک کرنا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کر دیا ہے اس لیے رسول کریم ﷺ نے نہ صرف خود جواب نہ دیا بلکہ صحابہ کو بھی منع کر دیا۔مگر جو نہی کہ ابوسفیان نے خدا تعالیٰ کی ذات پر حملہ کیا اور سر میدان شرک کا اعلان کیا اور بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کے ہبل بت کی توصیف کی تو آپ برداشت نہ کر سکے اور صحابہ کو حکم دیا کہ اسے جواب دو کہ خدا کے سوا اور کوئی نہیں جو عظمت و جلال کا مالک ہو۔پھر جب اس نے یہ ظاہر کیا کہ عزمی ہمارا مددگار ہے آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے کہہ دو کہ ہمارا خدا مددگار ہے اور ہم کسی اور کی مدد نہیں چاہتے اور یہ بات بھی خوب یاد رکھو کہ خدا ہماری مدد کرے گا اور تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔اللہ اللہ اپنے نفس کے متعلق کیا صبر ہے اور خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی کیسی غیرت ہے۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔کعب بن مالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت دینی کے ظاہر کرنے کے لیے اگر چہ پچھلی مثال بالکل کافی تھی لیکن میں اس جگہ