سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 92

سيرة النبي علي 92 جلد 1 نازل ہوئی ہے کہ یاد کرو جب رسول تم کو پیچھے کی طرف بلا رہا تھا ) اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا۔اُس وقت کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کا نقصان کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے جنگ بدر میں کفار کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔ستر قتل ہوئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے۔غرضیکہ جب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف ایک قلیل جماعت ہی رہ گئی تو ابوسفیان نے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد ہے؟ اور اس بات کو تین بار دہرایا لیکن رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو منع کر دیا کہ وہ جواب نہ دیں۔اس کے بعد ابوسفیان نے تین دفعہ بآواز بلند کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ اس کا جواب بھی نہ دیا گیا تو اس نے پھر تین دفعہ پکار کر کہا کہ کیا تم میں ابن الخطاب ہے؟ پھر بھی جب جواب نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لوگ مارے گئے ہیں۔اس بات کو سن کر حضرت عمر برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ اے خدا کے دشمن ! تو نے جھوٹ کہا ہے جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب کے سب زندہ ہیں اور وہ چیز جسے تو نا پسند کرتا ہے ابھی باقی ہے۔اس جواب کوسن کر ابوسفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کا بدلہ ہو گیا۔اور لڑائیوں کا حال ڈول کا سا ہوتا ہے۔تم اپنے مقتولوں میں بعض ایسے پاؤ گے کہ جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں گے۔میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں اس بات کو نا پسند بھی نہیں کرتا۔پھر فخریہ یہ کلمات بآواز بلند کہنے لگا اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل یعنی اے ہبل ! تیرا درجہ بلند ہو۔اے ہبل ! تیرا درجہ بلند ہو۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا کہو کہ خدا تعالیٰ ہی سب سے بلند رتبہ اور سب سے زیادہ شان والا ہے۔ابوسفیان نے یہ بات سن کر کہا ہمارا تو ایک بُت عُمر کی ہے اور تمہارا کوئی عربی نہیں۔جب صحابہؓ خاموش رہے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم جواب نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض